’زرعی شعبے کی ناقص کارکردگی سے اقتصادی ترقی متاثر‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران کپاس کی خراب فصل اور زرعی شعبے کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے اقتصادی ترقی کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا ہے اور اقتصادی شرح نمو 5.1 فیصد کے ہدف کے برعکس 4.71 فیصد رہی ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یہ بات جمعرات کو اسلام آباد میں اقتصادی جائزہ رپورٹ 2015-2016 جاری کرتے ہوئے کہی۔

٭ ’سیاسی عدم استحکام، اقتصادی ترقی کا ہدف پورا نہ ہو سکا‘

انھوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران ملک کی فی کس آمدنی 1516 ڈالر سے بڑھ کر 1560 ڈالر ہو گئی ہے۔

وزیر حزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ ملک میں غربت کا پتہ لگانے کے لیے سروے کیا گیا ہے جس کے مطابق سال 2015 میں ملک میں 29.5 فیصد افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح 5.9 فیصد ہے جو گذشتہ مالی سال کے دوران 6 فیصد تھی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو رہے ہیں اور یہ 21 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جن میں سے سٹیٹ بینک کے پاس 16 ارب 80 کروڑ اور نجی بینکوں کے پاس 4 ارب 80 کروڑ ڈالر ہیں جبکہ ترسیلات زر میں 19 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران مالیاتی خسارہ خام ملکی پیدوار 3.4 فیصد تک ہے اور امید ہے کہ ملکی سال کے اختتام تک یہ اپنے 4.3 فیصد کے ہدف سے کم رہے گا۔

انھوں نے بتایا کہ ملک میں ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن میں بہتری آئی ہے اور ٹیکس کی شرح جی ڈی پی 7.5 فیصد سے بڑھ کر 8.4 فیصد ہو گئی ہے۔

اخراجات کی شرح خام ملکی پیداوار کے 19.4 فیصد کے برابر ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس سال ملک میں مہنگائی کی شرح تین فیصد رہنے کی امید ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک فیصد سے کم رہے گا۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اقتصادی ترقی کا ہدف حاصل نہ ہونے کی سب سے بڑا وجہ زرعی شعبے کی منفی شرح نمو ہے۔

ملک کے خام ملکی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ 21 فیصد ہے جبکہ یہ شعبہ 42.3 فیصد افراد کو ملازمت فراہم کرتا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے میں ترقی کے بجائے کمی آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں ترقی کا ہدف 3.2 فیصد رکھا گیا تھا تاہم اس میں منفی0.19 فیصد کی کمی رہی۔ان کا کہنا تھا کہ گندم کی اچھی فصل بھی نقصان کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے کہا کہ کپاس کی پیدوار میں تین لاکھ گانٹھوں سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے جبکہ چاول کی پیدوار بھی گذشتہ سال کے مقابلے میں کم رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں منفی شرح نمو سے پاکستان کی خام ملکی پیداوار کی شرح نمو پر اثرانداز ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کپاس کی خراب فصل کی وجہ سے مجموعی قومی پیداوار میں 0.5 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق مجموعی طور پر صنعتی ترقی کی شرح 6.8 فیصد رہی جبکہ گذشتہ سال صنعتوں میں ترقی کی شرح 4.81 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح 4.61 فیصد رہی۔

اس کے علاوہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 5.71 فیصد رہی ہے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ رواں سال برآمدات میں 9.6 فیصد کی کمی ہوئی ہے اور مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران 18 ارب 18 کروڑ ڈالر کی برآمدات کی گئی جبکہ اس دوران درآمدات کا حجم 32 ارب 73 کروڑ ڈالر رہا ہے جو کہ گذشتہ سال کے برس میں 4.6 فیصد کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے دہشت گردی سے ہونے والے خسارے میں کمی آئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 2015-2016 میں دہشت سے معیشت کو ہونے والا خسارہ 9 ارب 24 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر پانچ ارب 56 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے 118 ارب 32 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس سال براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا ہے اور سب سے زیادہ سرمایہ کاری بجلی اور گیس کے شعبے میں ہوئی ہے اور بجلی کی پیداوار میں 12.18 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں