‘پاکستان کا طورخم پر سفری رعایت دینے پر غور‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بدھ کو طورخم سرحد پر سختی کے بعد سرحد پار آنے جانے والوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو رہی ہے

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان سرحد پر طورخم کے مقام پر سفری دستاویزات کی سختی سے جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے تاہم اسے پابندی نہیں کہا جا سکتا اور بعض افراد کو رعایت دیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے اپریل میں بھی پاکستانی حکام کی سرحد پر چیکنگ اور باڑ کی تنصیب پر دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ’پاک افغان سرحدوں سے آمد و رفت پر قابو پانا انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کا حصہ ہے اور اس میں دونوں ممالک کی دلچسپی ہے، اس حوالے سے افغان حکومت کا تعاون انتہائی اہم ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کے تحت ان افراد کو رعایت دی ہے جو مریض یا طالبِ علم ہوں۔ انھوں نے واضح کیا کہ ’اس کو پابندی نہیں کہہ سکتے۔ اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ کن لوگوں کی پاکستان میں داخلے کی جائز وجہ ہے اور کیا ان کے پاس درست دستاویزات موجود ہیں؟ اور اسی طرح افغانستان جانے والے افراد کے لیے بھی یہی اصول ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے واضح کیا کہ افغان حکومت نے چیکنگ میں رعایت کی درخواست نہیں کی۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے اپریل میں بھی پاکستانی حکام نے سفری دستاویزات کی سخت چیکنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا اور حکام نے افغانستان سے غیر قانونی طور پر خفیہ راستوں سے پاکستان داخل ہونے کی کوششوں کو روکنے کے لیے طورخم سرحد پر باڑ کی تنصیب کا کام شروع کیا تھا۔ تاہم باڑ کی تنصیب پر دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہو گئے تھے جس کی وجہ سے سرحد چار دن تک بند رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک اندازے کے مطابق طورخم سے روزانہ دس سے 15 ہزار افراد سرحد عبور کرتے ہیں

دفترخارجہ کے ترجمان نے پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل کی گاڑی کی تلاشی اور پھر احتجاجاً افغان قونصل خانہ بند ہونے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ’تمام سفارت کاروں کو ان کی سکیورٹی کے لیے راستے بتا دیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی ضوابط کے مطابق پاکستان تمام سفارت کاروں اور مہمانوں کو سکیورٹی اور سہولیات فراہم کرتا ہے۔‘

نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ افغان قونصل جنرل نے ایسا راستہ اختیار کیا تھا جو ان کے لیے ممنوع تھا اور جس پر چیکنگ کی جاتی ہے۔ ’اسی لیے سفارت کاروں کو ایسے راستے بتائے گئے ہیں جن پر چیکنگ نہیں کی جاتی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ چیکنگ کسی شک کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ پروٹوکولز انھیں محفوظ رکھنے کے لیے ہیں۔

افغان قونصلیٹ پشاور کو ایسے وقت بند کیا گیا ہے جب پاک افغان سرحد طورخم کے راستے پر سختی کی وجہ سے پہلے سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

اسی بارے میں