کوئٹہ کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال سے مریض دربدر

Image caption بدھ کو نئے مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں داخل نہیں کیا گیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف فیڈریشن کے ہڑتال کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کا سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے۔

ہڑتال کی وجہ سے سرکاری ہسپتال مریضوں سے خالی ہوگئے ہیں۔

* ’نوٹ درختوں پر نہیں اگتے،‘ کوئٹہ میں ڈاکٹروں کا احتجاج

بلوچستان میں نوجوان ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف فیڈریشن سے تعلق رکھنے والے پیرا میڈیکس گذشتہ دو ماہ سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج پر ہیں۔

اس احتجاج میں مزید شدت لاتے ہوئے گذشتہ ررز بدھ کو نئے مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں داخل نہیں کیا گیا۔

ان میں ایسے مریض بھی شامل تھے جو بےہوش تھے انھیں ان کے رشتہ دار انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال لائے تھے۔

Image caption تقریباً دو ماہ سے جاری ڈاکٹرز کی ہڑتال کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے

جہاں نئے مریضوں کو داخل کرنے کا سلسلہ بند کیا گیا وہاں نوجوان ڈاکٹروں نے ہسپتالوں کے وارڈوں پر یہ نوٹس بھی لگا دیا ہے کہ پہلے سے داخل مریضوں کو جمعرات کی شب آٹھ بجے تک ڈسچارج کر دیا جائے گا۔

کلیم اللہ نامی ایک شخص نے بتایا کہ ان کی والدہ انتہائی نگہداشت کی وارڈ میں تھیں جہاں سے ان کو زبردستی ڈسچارج کر دیاگیا۔

وارڈوں کی تالا بندی کے اعلان کے باعث مریض اور ان کے لواحقین پریشانی کے عالم میں سول ہسپتال کوئٹہ سے نکلتے رہے اور سول ہسپتال کوئٹہ کے وارڈ مریضوں سے خالی ہو گئے۔

وارڈوں سے زبردستی ڈسچارج کیے جانے والوں میں مسلم باغ سے کوما میں ایک چار سالہ بچہ شیر رحمان بھی تھا۔

جب سول ہسپتال کوئٹہ کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر عبد الرحمان میاں خیل سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا اس صورت حال کے بارے محکمۂ صحت کے حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

Image caption مریضوں کو زبردستی ہسپتالوں سے ڈسچارج کیا جا رہا ہے

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں ایک ایمرجنسی سیٹ اپ قائم کیا گیا ہے جہاں مریضوں کا علاج معالجہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب جہاں ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس کا پریس کلب کے باہر دھرنا اور علامتی بھوک ہڑتال جاری رہی، وہیں وہ احتجاجی کیمپ کے ساتھ لگے عارضی اوپی ڈی میں مریضوں کا معائنہ بھی کرتے رہے۔

سرکاری حکام کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کے بند ہونے کا ذمہ دار نوجوانوں ڈاکٹروں کی ضد اور ہٹ دھرمی کو قرار دے رہے ہیں۔

اس کے برعکس نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر حفیظ اللہ مندوخیل کہتے ہیں کہ سرکاری حکام کو عوام اور ڈاکٹروں کے مسائل کا احساس نہیں جس کے باعث وہ احتجاج پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں