زراعت حکومت کی ترجیحات میں شامل؟

پاکستان کے وزیر حزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ تقریر کا اعلان کیا۔ جس میں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سب سے زیادہ توجہ زرعی شعبے کو دی گئی ہے۔

رواں سال کے دوران زرعی شعبے نے ناقص کار کردگی کا مظاہرہ کیا اور اس شعبے کی شرح نمو منفی رہی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ کپاس کی پیدوار میں 28 فیصد کمی سے اقتصادی ترقی کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔

پاکستان کے جی ڈی پی کا 21 فیصد زراعت پر مشتمل ہے اور یہ شعبہ 44 فیصد آبادی کو روزگار فراہم کرتا ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال میں زرعی شعبے پر خاطر خواہ توجہ دی ہے اور اس شعبے میں کئی مراعات کا اعلان کیا ہے۔

  • حکومت نے یوریا کھاد کی بوری کی قیمت 1800 روپے کم کر کے 1400 روپے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
  • فاسفیٹ کھاد کی بوری کی قیمت 2800 سے کم کر کے 2500 سو روپے فی بوری کر دی گئی ہے۔
  • حکومت کاشتکاروں کو کھاد کے لیے 10 ارب روپے کی سبسڈی دے گی۔
  • زرعی قرضوں کا حجم 600 ارب سے بڑھا کر 700 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ زرعی قرضوں پر شرح سود میں دو فیصد تک کمی کی گئی ہے۔
  • زرعی ٹیوب ویل کے لیے بجلی کا فی یونٹ 8.85 پیسے سے کم کر کے 5.53 پیسے کر دیا گیا ہے۔
  • کیڑے مار ادویات پر عائد سات فیصد سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔

زرعی شعبے کے لیے مرآعات

وفاقی بجٹ سنہ 2016-2017

  • یوریا کھاد کی فی بوری قیمت میں کمی 400 روپے

  • فاسفیٹ کھاد کی فی بوری قیمت میں کمی 300 روپے

  • کاشکاروں کو کھاد کے لیے 10 ارب روپے کی سبسڈی

  • زرعی قرضوں کے حجم 100 ارب کا اضافہ

  • زرعی ٹیوب ویل کے لیے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ کمی 3.32 پیسے

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں برآمدات بڑھنے کے لیے بھی کچھ اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ یاد رہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی برآمدت میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 19 فیصد کم رہی ہیں۔

  • حکومت نے برآمدت میں اہم کردار ادا کرنے والے پانچ بڑے شعبوں کو سیلز ٹیکس سے مستثنی قرار دیا ہے۔
  • ٹیکسٹائل، چمڑے، قالین سازی، کھیلوں کی مصنوعات اور آلاتِ جراحی پر عائد سیلز ٹیکس کی شرح کو صفر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
  • ٹیکسٹائل مشنری کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔
  • تجارتی پالیسی کے تحت سکیموں کے نفاذ کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ قائم کیا جا رہا ہے۔
  • ایکسپورٹ ری فائننس فیسلٹی پر عائد شرح سود 9.5 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد پر لایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں