شریف خاندان کا ملک پر ’عدم اعتماد‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انسانی رشتے چاہے انفرادی ہوں یا اجتماعی، اس بات سے آپ مکمل طور پر اتفاق کریں گے کہ ان میں اعتماد ایک انتہائی اہم عنصر ہوتا ہے۔ اس بات سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اعتماد کی بنیادیں جتنی مضبوط اور گہری ہوں گی ان پر کھڑی کی جانے والی عمارت اتنی ہی پختہ اور پائیدار ہو گی۔

اعتماد کا فقدان یا اعتماد کی کمی شک و شبہات کو جنم دیتی ہے جو رشتوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں اور کھوکھلا کر دیتے ہیں۔

اعتماد یقین کو جنم دیتا ہے اور اگر یقین نہ ہو تو رشتہ چاہے میاں بیوی کا ہو، دوستی کا ہو، کسی ٹیم میں کھلاڑیوں اور کپتان کا ہو، آجر کا اجیر سے ہو، بینک کا اپنے صارف سے ہو، سپاہ سالار کا اپنے فوجیوں سے ہو یا کسی قوم کا اپنے رہنما یا قائد سے وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ غرض یہ کہ کسی فرد کی نجی زندگی ہو یا معاشرے اور قوموں کی اجتماعی زندگی، تمام کاروبار اعتماد ہی کی بنیاد پر چلتا ہے۔

پاکستانی معاشرے پر اگر آج طائرانہ نظر ڈالی جائے تو جس چیز کی شدت سے کمی محسوس کی جا رہی ہے وہ اعتماد کا فقدان ہے۔

٭ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی

٭ میرے باپ کا پیسہ

ریاستِ پاکستان کے اپنے ہمسائیوں سے تعلقات ہوں یا حکومت وقت کا فرد سے تعلق، سیاسی رہنماؤں کا عوام سے، حکومت کا اپوزیشن سے یا حکومت کا فوج سے عدم اعتماد کے باعث حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

پاکستان جن معاشی مشکلات کا شکار ہے ان کو حل کرنے میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ عدم اعتماد ہی ہے۔ حکومت سرمایہ کاری اور ٹیکس کی وصولیوں میں بری طرح ناکام ہے۔ ٹیکسوں کی وصولیاں بڑھانے کے لیے تمام تر ترغیبات اور رعایتیں کارگر ثابت نہیں ہوتیں۔ بس وہی لوگ ٹیکس دینے پر مجبور ہیں جن کی تنخواہوں سے ٹیکس منہا کر لیا جاتا ہے۔ اسی معاشرے میں لوگ رضاکارانہ طور پر ٹیکس دیتے ہیں جہاں انھیں ریاست اور حکومت پر مکمل اعتماد ہوتا ہے۔ یہ اعتماد کہ ٹیکس سے وصول کیا جانے والا پیسہ قوم کی اجتماعی فلاح پر خرچ کیا جائے گا لوگوں کو ٹیکس دینے کی وجہ بنتا ہے۔

جس ملک میں لوگوں کو یہ اعتماد نہ ہو کہ ان کے فارن کرنسی اکاؤنٹس فریز نہیں کر لیے جائیں گے، بجلی بند نہیں ہوگی، گیس کم نہیں ہوگی، جان اور مال چھن نہیں جائےگا وہاں غیر ملکی ہو یا ملکی سرمایہ کار کیوں آئے گا۔ حکومت چاہے کچھ کر لے تجارت نہیں ہو گی، ٹیکس وصول نہیں ہوں گے اور معیشت کا پیہہ نہیں چلے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اعتماد ایک باہمی رشتہ ہے یکطرفہ نہیں۔ اعتماد وقت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے لیے بہت جتن کرنے پڑتے ہیں چاہیے تعلق انفرادی ہو یا اجتماعی۔

سیاسی قائدین کا اویلین کام قوم میں اعتماد پیدا کرنا ہوتا ہے۔ حکومت وقت اگر حکومتی اداروں پر عوام کا اعتماد پیدا نہ کر سکے تو وہ کامیاب ہو ہی نہیں سکتی۔عوامی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔

سیاسی قائدین کو اپنے ہر ہر لفظ اور ہر ہر فعل سے یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ انھیں اپنے ملک اور قوم پر مکمل اور اندھا اعتماد ہے۔

ایسی سیاسی قیادت جسے عوام پر اعتماد نہ ہو وہ مشکل دفاعی، سیاسی اور معاشی فیصلے کر ہی نہیں سکتی۔

سیاسی مفادات کے تحت بنائےگئےمیٹرو بس سروس اور اورنج ٹرین جیسے منصوبے قوم میں اعتماد پیدا نہیں کر سکتے۔ عوام کے بنیادی مسائل کا حل ہی ان کا حکومت پر اعتماد بحال کر سکتا ہے۔

لندن میں بی بی سی کے نیو براڈسکٹنگ ہاؤس سے پانچ منٹ کی دوری پر ہارلے سٹریٹ کلینک میں وزیر اعظم پاکستان زیر علاج ہیں۔ نہ کوئی سرکاری سکیورٹی نہ کوئی پروٹوکول۔

نواز شریف کا اپنی تمام سرکاری سکیورٹی اور پروٹوکول کو چھوڑ کر انتہائی اطمینان سے اپنے دل کی سرجری کرانے کے لیے لندن آنا یہاں کے علاج اور نظام پر ان کے کامل اعمتاد اور یقین کا جیتا جاگتا ثبوت اور اظہار ہے۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ اگر سوال زندگی کا ہو تو کسی قسم کا کوئی خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔ زندگی بچانے کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو کرنی چاہیے اور علاج کے لیے ان ہی ڈاکٹروں اور اُسی ہسپتال میں جانا چاہیے جس پر کامل یقین اور اعتماد ہو۔

ہارلے سٹریٹ کلینک کے سامنے فٹ پاتھ پر کھڑے، میرا ذہن یہ سوال کر رہا تھا کہ پیسے کے علاوہ اس آپریشن کی قوم نے کیا قیمت ادا کی ہے اور کیا شریف خاندان کا پاکستان پر یہ ’عدم اعتماد‘ نہیں۔

اسی بارے میں