’سب کچھ لٹا دیا، تالیاں تو بجا دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حزب مخالف کے ارکان کی بہت کم تعداد ایوان میں موجود تھی

پاکستان کی قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر میں وزیراعظم نواز شریف کی عدم موجودگی کے باعث نہ تو حکومتی ارکان کی کوئی خاص دلچسپی نظر آئی اور نہ ہی حزب مخالف کی جانب سے روایتی طور پر تجاویز پر خاص تنقید یا رد کرنے کی آوازیں سنائی دی۔

شاید اسی وجہ سے وزیر خزانہ کو حکومتی بینچز پر بیٹھے ارکان کو دو بار کہنا پڑا کہ اچھے اعلان پر خوشی کا اظہار کریں۔

جمعے کی شام کو وزیر خزانہ ایوان میں بجٹ تقریر کرنے کے لیے آئے تو پہلی بار قرآن کی تلاوت کے بعد نعت بھی پڑھی گئی جبکہ تقریر شروع ہونے سے پہلے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کے تقسیم کے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ یا ’این ایف سی‘ کے پانچ برس سے اعلان نہ کیے جانے پر تنقید کی اور کہا کہ اس بنیاد پر فنانس بل کو چیلیج کیا جا سکتا ہے۔

اس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ پارلیمانی قواعد کے تحت بجٹ کے اعلان سے پہلے قائد حزب اختلاف تقریر نہیں کر سکتے ہیں۔

تاہم وزیر خزانہ نے ایوان کے ماحول کو خوشگوار رکھنے کے لیے کہا کہ آپ سیدہ زادہ ہیں تو آپ کے احترام میں بیٹھ جاتا ہوں، اس پر سید خورشید شاہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے اور وزیر خزانہ نے تقریر کا آغاز کیا ہی تھا کہ حزب مخالف کے ارکان نے شور مچایا کہ بجٹ تقریر کی کاپیاں نہیں۔

اس پر انھوں نے کہا کہ کاپیاں آ رہی ہیں اور ساتھ ہی عملے نے تقریر کی کاپیاں تقسیم کرنا شروع کر دی۔

وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران حزب مخالف کے ارکان کی تعداد کافی کم تھی اور یہ پوری تقریر کے دوران 75 کے قریب رہی جبکہ حکومتی ارکان بھی کم تھے اور آخر کی زیادہ تر نشستیں خالی تھیں جس میں تقریر کے کافی دیر بعد وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف وزیر خزانہ کی ساتھ والی نشست پر بائیں جانب بیٹھ گئے جبکہ اس کے تھوڑی دیر بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار آئے اور وزیر خزانہ کی دائیں جانب بیٹھ گئے، تاہم ان دنوں کے درمیان دوسرے ارکان کے برعکس سلام دعا نہیں ہوئی۔

وزیر خزانہ تقریر کرتے رہے لیکن ایوان میں بیٹھے زیادہ تر ارکان کی توجہ تحریری بجٹ تقریر کو پڑھنے پر مرکوز تھی اور اس دوران وقفے وقفے سے حکومتی ارکان ڈیسک بجا کر تجاویز کا خیرمقدم کرتے تھے۔ تاہم جسیے جیسے تقریر آگے بڑھتی گئی یہ تائید بھی کم ہوتی گئی جس میں اقتصادی راہداری کے منصوبے اور گودار کی ترقی کے اقدامات کی تجاویز پر بھی خاموشی رہی۔

بجٹ تقریر پڑھنے کے بعد حکومتی بینچز میں بیٹھے ارکان کی تعداد کم ہوتی گئی جبکہ وزیر خزانہ کے ساتھ بیٹھے وزرا احسن اقبال اور خواجہ آصف اپنے موبائل فون پر مصروف رہے جبکہ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کے درمیان رقعوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔

تقرر کے دوران جب وزیر خزانہ نے زراعت کے شعبے کی بہتری کے لیے تجاویز پیش کیں تو اس حزب مخالف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ بہت کم ہیں تو وزیر خزانہ نے کہا کہ’ آپ بھی کاشت کار ہیں، آپ بھی تالی بجا دیں، آپ پر آج سب کچھ لٹا دیا، جناب سپیکر آج تو زراعت کا دن ہے ہم نے تو زراعت پر سب کچھ لٹا دیا، آج تو قریشی صاحب کو سب سے زیادہ تالیاں بجانی چاہیں۔‘ اس پر ایوان میں قہقے بلند ہوئے۔

اس پر شاہ محمود قریشی نے مسکرا کر وزیر خزانہ کی جانب دیکھا اور پھر اشارہ کیا کہ ان تجاویز میں کچھ نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’شاہ محمود قریشی نے مسکرا کر وزیر خزانہ کی جانب دیکھا اور پھر اشارہ کیا کہ ان تجاویز میں کچھ نہیں‘

تقریر جیسے جیسے اختتام کی جانب بڑھ رہی تھی اس کے ساتھ ایوان میں موجود ارکان چاہے وہ اپوزیشن کے بینچز میں تھے یا حکومتی بینچز میں، ان کے درمیان ہونے والی بات چیت کا شور بلند ہوتا گیا۔

اسی دوران وزیر خزانہ نے جب تقریر میں استعمال شدہ کپڑوں پر دو فیصد اضافی سیلز ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی تو انھوں نے اس کے ساتھ ہی حکومتی ارکان کی عدم دلچسپی کو محسوس کرتے ہوئے ان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا کہ’او بھائی سیکنڈ ہینڈ کپڑے سستے ہو گئے ہیں آپ سوئے ہوئے ہیں۔‘

اس پر ایوان میں’بجٹ تقریر کی بوریت‘ کا جمود ٹوٹا اور جہاں حزب مخالف کے ارکان کی جانب قہقوں کی آوازیں آئیں وہیں حکومتی ارکان نے خاصی دیر تک ڈیسک بجائے۔

وزیر خزانہ کی تقریر میں جب مزدوروں کی کم سے کم اجرت میں 13 ہزار سے بڑھا کر 14 ہزار کرنے کی تجویز دی گئی تو اس پر اپوزیشن کے چند ارکان کی جانب سے ناکافی ناکافی کی آوازیں آئیں۔

تقریر میں آگے چل کر وزیر قانون نے 85 برس سے پنشرز کی پنشن میں 25 فیصد اضافے کی تجویز دی تو حزب اختلاف کے رکن شیخ رشید نے کہا کہ ’یہ ہوں گے ہی نہیں‘، اس پر وزیر خزانہ کہا کہ چند ہزار ہیں، آپ کو بتا دیں گے۔

آخر میں وفاقی وزیر خزانہ نے علامہ اقبال کا شعر پڑھا لیکن تلفظ کی غلطی کر گئے اور انھیں اسے دوبارہ پڑھنا پڑا۔

اسی بارے میں