’ بجٹ تقریر میں عوام کو پھر بے وقوف بنایا گیا‘

پاکستان کی پارلیمان میں موجود حزب مخالف کی جماعتوں نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں امیر طبقے کو سہولت دی گئی جبکہ عام شہریوں پر مزید بوجھ ڈالا گیا ہے۔

بجٹ تقریر کے بعد حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بجٹ بھی موجودہ حکومت کے پہلے تین بجٹ کی طرح تھا جس میں ہدف مقرر کیے جاتے ہیں اور پھر مالیاتی اختتام پر اکنامک سروے شائع کر دیا جاتا ہے اور اس کا عنوان ہوتا ہے کہ وہ اہداف جن کو حاصل نہیں کیا جا سکا۔‘

انھوں نے کہا کہ پھر اس کے بعد یہ ناکامی بجٹ تقریر کا حصہ بن جاتی ہے۔

اس بجٹ تقریر میں ویڈ ہولڈنگ ٹیکس سنائی دیتا رہا ہے جس میں انحصار بلواسطہ ٹیکسوں پر رہا جبکہ براہ ٹیکسوں کی مد میں بڑے طبقے کو سہولت دی گئی جبکہ عام پاکستانی پر مزید بوجھ ڈالا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بجٹ میں زراعت کے شبعے کے لیے مراعات کی کافی امیدیں تھیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

’وزیر خزانہ نے کہا کہ کپاس کی وجہ سے ہماری اقتصادی ترقی کا طے کردہ ہدف پورا نہیں ہو سکا لیکن بجٹ میں فصلوں کی امدادی قیمتوں کا اعلان سامنے نہیں آیا ہے جس کی وجہ سے کاشت کار کوکوئی سہارا نہیں ملا۔ جو کہانی ہم تین بار پہلے سن چکے ہیں، اس کو چوتھی بار پھر سنا ہے۔‘

انھوں نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت بجٹ کا جائزہ لے گی اور اس کے بعد قومی اسمبلی میں بجٹ پر ہونے والی بحث میں اپنی رائے کو عوام کے سامنے پیش کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ہماری معیشت میں بنیادی کمزوریاں اور خرابیاں ہیں اور اگر ان خرابیوں کو دور کرنے کے بجائے اگر صرف لیپا پوتی سے کم لیں گے تو اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔‘

انھوں نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں کوئی مثبت چیز سامنے نہیں آئی جس میں ’آپ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ کارپوریٹ سیکٹر کے لیے کر رہے ہیں جس میں اگر پبلک سیکٹر جب تک معیشت کے اندر نہیں آئے گا تو نہ تو شرح نمو میں اضٰافہ ہو گا اور نہ ہی ملک سے بے روزگاری ختم ہو گی۔

تاج حیدر نے مزیدکہا کہ حکومت کی تجاویز سے لگتا ہے کہ ’آپ نے نجی شعبے کو معیشت پر اجاری داری دے دی ہے تو یہ رعایت پر رعایت مانگ رہے ہیں، ملک میں مقابلے کی فضا نہیں بلکہ مختلف انڈسٹریز کے کارٹیل بنتے جائیں گے اور وہ مل کر حکومتیں سے رعایتیں لے رہے ہیں۔ لیکن اگر پبلک سیکٹر میں بھی یہ تمام صعنتیں ہوں تو پھر مقابلے کی فضا بن پائے گی۔‘

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بجٹ تقریر کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور صحت پر اس بجٹ میں بھی جو خرچ کیا گیا وہ باعث شرم ہے اور مختص کی گئی رقم بھوٹان، نیپال اور بنگلہ دیش میں ان شعبوں کے لیے رکھی گئی رقم سے بھی کم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ اس وقت ہر پانچواں پاکستانی بیمار ہے اور گذشتہ بجٹ میں صحت کے لیے بجٹ کا محض 069 فیصد رکھا گیا لیکن اس بار اضافے کی توقع کر رہے تھے لیکن یہ حکومت نہ تو صحت اور نہ ہی تعلیم کے شعبے میں انقلابی کام کر سکی۔‘

سراج الحق نے ماحولیات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی جائزوں کے مطابق کراچی سے خیبر تک شہروں میں آلودگی اس حد تک پہنچ چکی ہے جس سانس لینا خطرناک بنتا جا رہا ہے لیکن حکومت نے اس طرف بھی کوئی توجہ نہیں دی اور کوئی بڑا منصوبہ پیش نہیں کر سکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سراج الحق نے دعویٰ کیا کہ آئندہ دو برس میں دو کروڑ افراد ملک میں بے روزگار ہوں گے لیکن حکومت نے ملک میں بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے میں بھی ناکامی دکھائی ہے جس سے پاکستان بے روزگاروں کا ملک بن جائے گا۔‘

حزب اختلاف کی جماعت ایم کیو ایم کے سینئیر رہنما فاروق ستار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ ملک میں امیر کو امیر ترین اور غریب کو غریب تر بنانے کا ایک اور روایتی بجٹ تھا۔ 70 برسوں سے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے اور آج پھر انھیں بے وقوف بنانے کے لیے یہ اجلاس بلایا گیا اور اس میں جھوٹے دعوے کیے گئے کہ عوام کو ریلیف دیا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس بجٹ کو روایتی اور عوام دشمن بجٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔

اسی بارے میں