تاجر برادری کا بجٹ پر ’مثبت ردعمل‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کی تاجر برداری اور صنعتوں کاروں نے آئندہ مالی سال کے لیے مجوزہ بجٹ کو معیشت کے لیے مثبت قرار دیا ہے۔ صنعتکاروں نے برآمدت میں اضافے کے لیے ٹیکسوں میں چھوٹ کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چمبرز اینڈ کامرس کے صدر رؤف عالم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس بجٹ میں اقتصادی ترقی کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نئی صنعتوں کے قیام کے لیے ٹیکسوں کی چھوٹ کی سہولت دی گئی ہے تاکہ نئی صنعتیں لگیں اور روزگار میں اضافہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے لیے اعلان کی گئی مراعات سے بھی اقتصادی ترقی کی شرح بہتر ہو گی۔

راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینیئر نائب چیئرمین راجہ عامر کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ ایک متوازن بجٹ ہے تاہم اس حوالے سے حتمی رائے اس کی مزید تفصیلات سامنے آنے کی بعد دی جاسکتی ہے۔

انھوں نے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص رقم میں 103 ارب روپے کو بڑھا کر 115 ارب اور دفاعی بجٹ میں 11 فیصد اضافہ خوش آئند قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال میں فوج کے ضرب عضب آپریشن اور کراچی آرپریشن سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری سے ملکی معیشت کو تقریباً 300 ارب کا فائدہ پہنچا ہے لہذا وہ امید کرتے ہیں امن و امان کی صورتحال میں مزید بہتری سے ملکی معیشت بہتر ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مزدور کی کم سے کم آمدن 13000 سے 14000 کر دی گئی ہے تاہم یہ اضافہ ناکافی کیونکہ اتنی رقم سے کسی گھرانے کا خرچ چلانا ممکن نہیں ہے۔

راجا عامر کے مطابق حکومت کو بجٹ کا 500 ارب خسارہ کم کرنے کے لیے موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے۔اگر ایسا نہ ہوا مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

راجا عامر نے بجٹ میں زراعت اور صنعتی شعبے کے لیے دی جانے والی مراعات کو بھی خوش آئند قرار دیا ہے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن میاں نعمان کبیر کا کہنا تھا کہ رزاعت کے لیے حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو خوش آئند کہتے ہیں تاہم ’ہم امید کر رہے تھے کہ صنعتی شعبے کے لیے بھی کسی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو ملک میں صنعتیں لگانے کی حوصلہ افزائی، بجلی کی پیداوار اور پانی کی دستیابی کے حوالے سے بھی اقدامات کرنے چاہیئیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

میاں نعمان کبیر کا کہنا تھا کہ حکومت کو ٹیکس جمع کرنے کا نظام کو بہتر بنانا ہے کیونکہ تقریباً 1500 ارب ٹیکس جمع نہیں کیا جاتا۔

آل پاکستان انجمن تاجران پاکستان کے ترجمان نوید کنول کا کہنا تھا کہ اس ’بجٹ سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کا یہ ریکارڈ رہا ہے کہ وہ بجٹ کی تقریر میں مثبت پہلو تو اجاگر کرتی ہے لیکن منفی اُمور کا ذکر نہیں کیا جاتا۔

’عوام کو ریلیف، تنخواہوں میں اضافے اور ڈیوٹی ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے لیکن جن اشیا پر سبسڈی ختم کی جاتی ہے اس کا ذکر گول کر دیا جاتا ہے۔‘

نوید کنول کا کہنا تھا کہ حالیہ بحٹ میں کچھ رعیایتیں کم کی گئی ہیں اور ٹیکسوں کے ذریعے 500 ارب بجٹ کا خسارے میں سے ہمارے اندازے کے مطابق 150 ارب پورے کر لیے جائیں اور باقی 300 ارب کے بارے میں واضح نہیں ہے۔ لہذا یہ بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندا ہے۔‘

اسی بارے میں