سوشلستان:لندن میں سرجری پر طوفان

سوشلستان گذشتہ ایک ہفتے سے حالتِ تیمارداری میں رہا ہے اور اس کی وجہ وزیراعظم نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری ہے۔ اس سرجری اور اس کے حوالے سے شکوک شبہات اور اس کے علاوہ گذشتہ ہفتے سوشلستان میں کیا ہوتا رہا آئیے نظر ڈالتے ہیں۔

’نواز شریف مکر کر رہا ہے‘

جی ہاں آپ پاکستان مسلم لیگ کے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے سے پلیز غلط فہمی کا شکار نہ ہوں نواز شریف بالکل خیریت سے ہیں اور خود پیروں پر چل کر سفارت خانے گئے اور اجلاسوں کی صدارت کی۔

اب اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ نواز شریف پھنس گیا ہے اور پاناما کے پھندے سے نکلنے کے لیے ’دل کے عارضے کا مکر کر رہا‘ ہے۔

آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ مجھے بیٹھے بٹھائے کیا ہوگیا؟

درحقیقت یہ ساری اور اس سے بھی سنگین اور مضحکہ خیز باتیں گذشتہ ایک ہفتے سے پاکستانی حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعت کے حامی ٹوئٹر پر کر رہے ہیں اور یہ صرف عام کارکن نہیں بلکہ اس میں چند اہم حضرات بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

عدیل ہاشمی کی ٹویٹ تو ایک جانب (جنھیں جلد ہی احساس ہوا اور انھوں نے معذرت کی ٹویٹ کی تاہم تب تک کافی دیر ہو چکی تھی) جنون بینڈ کے سلمان احمد کی ٹویٹ خاصی پریشان کُن ہے۔

موصوف فرماتے ہیں’حرص اور طمع سے دل اور ذہنی عارضہ لاحق ہو سکتا ہے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی انا کی دیوار گرا کر اپنا علاج کریں نہ کہ لندن سرجری کے لیے جائیں۔‘

اس پر محسن حجازی نے لکھا ’کسی کو دل کی تو جو ہوگی، مخالفین کو دماغ کی اوپن ہارٹ سرجری کی ضرورت ہے۔‘

ندیم فاروق پراچہ نے لکھا: ’میرے ایک دوست نے گذشتہ سال دانت کی چھوٹی سی سرجری کرائی تو اس کے حوالے سے فیس بُک پر تین پوسٹس اپ ڈیٹ کیں۔ ابھی اسی دوست کی ٹویٹ دیکھی کیا ہوا وزیراعظم کا بائی پاس ہو رہا ہے یہ کوئی بڑی خبر ہے؟‘

آپ بھی اب ہسپتال بنوانے کو چھوڑیں حرص اور طمع کی علاج گاہ بنوائیں خوب چلے گی۔

نجانے نواز شریف کا مکر یا مبینہ جھوٹ بڑا یا دوسروں کی بدظنی۔

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption اسلام آباد میں آنے والے طوفان کے نتیجے میں کئی مکانات کی چھتیں اور دیواریں ڈھے گئیں جب کہ بہت سے مقامات پر درخت جڑوں سے اکھڑ گئے

اسلام آباد کا طوفان

اسلام آباد کی تقریباً ساری آبادی کو انٹرنیٹ اور وائی فائی کی سہولت دستیاب ہے مگر شہر کی انتظامیہ ابھی تک اس کا فائدہ اٹھانے میں ناکام نظر آتی ہے جس کی مثال بدھ کی رات آنے والا طوفان ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سی ڈی اے اور کمشنر کے دفتر کی جانب سے اطلاعات دی جاتیں، محکمہ موسمیات کی جانب سے خبردار کیا جاتا مگر حالت یہ تھی کہ عوام ایک دوسرے کو سوشل میڈیا پر خبردار کرتے نظر آئے۔

کمشنر اسلام آباد کا ایک فیس بُک پیج ہے مگر اس پر عائشہ ممتاز کے چھاپوں کے بعد سے اکثر صرف چھاپے مارنے کی تصاویر ہی شیئر کی جاتی ہیں۔

دنیا بھر میں شہری ادارے سوشل میڈیا کی مدد سے عوام سے رابطے میں رہتے ہیں جو براہِ راست شہریوں سے حکام کو جوڑتا ہے جس پر اسلام آباد اور دیگر شہروں کی انتظامیہ کو بھی توجہ دینی چاہیے۔

Image caption آئندہ مالی سال کا بجٹ جمعے کو پیش کیا گیا

وفاقی بجٹ اور پالش کی قیمت

وفاقی بجٹ کے حوالے سے طاہر نقاش نے ٹوئٹر پر مطالبہ کیا کہ ’پالش کی قیمت میں اضافہ کیا جائے۔‘

چونکہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کس پالش کی بات کی جا رہی ہے اور مزید تفصیل میں یہاں جایا نہیں جا سکتا اس لیے آپ خود ہی ٹوئٹر پر جائیں اور پالش لفظ اردو میں لکھ کر سرچ کر لیں۔

آخر میں جانے سے پہلے اس ہفتے کی اہم اور گہرا تاثر چھوڑنے والی چند تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ تینوں تصاویر جنوبی وزیرستان کی ہیں جن میں ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ کہ ان تمام مکانوں کی چھتیں نہیں ہیں۔

نوٹ: اگر آپ کے پاس بھی کوئی ایسی تصویر یا ویڈیو ہے جسے آپ اس فیچر میں شامل کروانا چاہتے ہیں تو ہمیں فیس بُک پر بھجوائیں یا ٹوئٹر پر ٹیگ کریں۔

اسی بارے میں