ڈار صاحب، ڈارصاحب ’ہن مکاؤ وی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں اضافہ کیا ہے

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار ویسے تو ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے ضوابطِ کار ہوں یا پھر ناراض اپوزیشن کو منانا، اور وزیراعظم کی غیر موجودگی میں اُمور مملکت کی دیکھ بھال بھی اسحاق ڈار کی ہی ذمہ داری ہے۔

لیکن گذشتہ روز قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کے بعد سنیچر کو اسلام آباد میں ہونے والی پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کافی مطمئن اور خوش دکھائی دے رہے تھے۔

ملک بھر اور خصوصاً لاہور سے بلوائے گئے صحافیوں اور مقامی صحافیوں کی موجودگی میں پر ہجوم پریس کانفرنس کے آغاز میں وزیر خزانہ نے مشکل اقتصادی زبان میں اپنی کامیابیاں گنوائیں اور حاضرین سے داد طلب کرنے کی غرض سے کئی بار کہا کہ کئی روز کی ’عرق ریزی‘ کے بعد بہت اچھا بجٹ بنانے کی کوشش کی ہے۔

وزیر خزانہ نے اپنے ذمے عائد کئی اُمور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک طرف ٹی او آر کی میٹنگز چل رہی تھیں اور پھر بجٹ۔‘ انھوں نے سیکرٹری خزانہ اور موجود ٹیم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم پچھلے ایک ہفتے سے سوئے نہیں ہیں۔‘

وزیر خزانہ گذشتہ روز کی طرح آج بھی اربوں اور کھربوں روپوں کے منصوبوں، اقتصادی ترقی اور خسارے میں کمی کی بات کی۔

گذشتہ سال کی پریس کانفرنس کے برعکس وزیر خزانہ نے اس بار زیادہ برداشت کا مظاہرے کرنے اور سخت سوالات پر بھی ہنستے ہوئے جوابات دینے کی کوشش کی۔

اس کوشش میں کبھی وہ کامیاب ہوئے اور کبھی برملا ناراضی کا اظہار بھی کر بیٹھے۔

زرعی شعبے کو ملنے والی مراعات کا فائدہ بڑے زمینداروں کو ہوگا اس سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ’بڑے زمینداروں نے کھاد خود کھانی نہیں ہے۔ یہ زمین میں لگے گی اور سستی بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل کا پانی نہانے کے کام نہیں آئے گا۔ بھائی! یہ فائدہ تو زمین کو ہو گا۔‘

وزیر خزانہ مہنگائی اور خوراک کی قیمتیں کم نہ ہونے پر پوچھے گئے سوالات پر مشکل اور ثقیل اقتصادی زبان کا استعمال کرتے ہوئے بچ نکلنے میں ہی عافیت جانی۔

لیکن جب ترقیاتی بجٹ کے بارے میں سوالات ہوئے تو وہ اپنا غصہ روک نہ پائے۔

ترقیاتی بجٹ کے لیے مختص رقم جاری نہ کرنے اور صرف پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈ جاری کرنے اور سندھ اور خیبر پختونخوا کو رقم نہ دینے کے سوالات پر اسحاق ڈار نے صحافی سے کہا: ’مجھے پتہ ہے کہ آپ کس وزیر کی دی ہوئی معلومات پر یہ سوال کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک صحافی نے کہا کہ ’ڈار صاحب آپ دل کے مریض ہیں زیادہ دباؤ نہ لیں۔‘ جس پر وزیر خزانہ نے کہا کہ ’میں دل کا مریض نہیں ہوں الحمد اللہ آپ سے زیادہ گھنٹے میں کام کرتا ہوں۔‘

صحافیوں کے سوالوں پر کبھی تو وزیر خزانہ نے اُن کی ہی معلومات کو چیلنج کر دیا تو کبھی کہا کہ وہ اعتراض پر متعلقہ حکام سے براہ راست ملاقات کروا دیں گے۔

صدر اور وزیراعظم کو ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ کو ختم کرنے بارے میں اُن سے سوال پوچھا گیا کہ ’ آپ کہتے تھے ہم ٹیکس چھوٹ ختم کر رہے ہیں لیکن صدر اور وزیراعظم کو بہت سے ٹیکسوں سے استثنیٰ ہے۔ لگتا ہے آپ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔‘

اس سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے طنزیہ طور پر مسکراتے ہوئے کہا کہ ’ہاں! اُن کے ٹیکس سے اربوں مل جائیں گے۔‘

لیکن پھر معاملے کو حساس سمجھتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’وزیراعظم اور صدر کو ملنے والی تنخواہیں بہت کم ہیں یا تو ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ اُنھیں اچھی تنخواہیں دیں یا پھر انھیں ملنے والی مراعات کو جاری رکھا جائے۔‘

وزیر خزانہ کی اربوں اور کھربوں روپے کی باتوں کے دوران وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ پریس کانفرنس شروع ہوئے ایک گھنٹے گزرنے کے بعد ڈار صاحب عجلت میں دکھائی دیے۔ ایسے میں وہاں موجود سوالات کرنے کی خواہش مند صحافی ایک دوسرے سے مائیک مانگتے رہے۔

صحافی چاہتے تھے کہ ان کا سوال کا جواب دیا جائے اور وزیر خزانہ کہہ رہے تھے کہ ’ہن مکاؤ وی‘ یعنی اب ختم کرو۔

آخر کار وزیر خزانہ کی برادشت کا مظاہرہ ختم ہوا اور وہ شکریہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ صحافی ’ڈار صاحب، ڈار صاحب‘ کہتے رہ گئے۔

اسی بارے میں