ہم تو دیوار ہی سے واقف تھے

تصویر کے کاپی رائٹ Zaeem Siddiq

کشمیر ہو کہ گلگت بلتستان، سچ ہے کہ فردوس بر روئے زمیں است۔ پر جب جب اس بہشت سے لوٹا، ایک پھانس سی دل میں لے آیا۔ کیا حسن ہے اور کیسی غربت و بے چارگی سے ہم آغوش۔

یہ کسی خاص خطے کا المیہ نہیں۔ کئی ممالک بھی ایسے ہیں جنھیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیسی قیمتی جگہ گھیرے بیٹھے ہیں جیسی جگہ پانے کے لیے ایک دنیا پاگل ہے، اور پھر وقت گزر جاتا ہے۔

کسے معلوم کہ ہر جانب سے خشکی سے گھرا افغان کتنی حسرت سے پاکستان کا ہزار کلومیٹر ساحل دیکھتا ہو گا۔ ایک سعودی کے پاس بھلے سب کچھ ہو پر اسے دریا کا کنارہ کیسے سمجھائیں؟ لق و دق میدانی گیمبیا، گنی بساؤ، بیلا روس اور ڈنمارک والے کیا جانیں کہ نانگا پربت کتنا اونچا ہوتا ہے۔ پونے دو سو ممالک کے باشندے گلیشیرز صرف تصاویر میں ہی تو دیکھتے ہیں۔

مصر کے پاس ایک دریائے نیل ہے۔ پاکستان میں پانچ بڑے اور 20 چھوٹے دریا ہیں۔ 90 فیصد مصری دریائے نیل کے آرپار صرف سو کلومیٹر چوڑی پٹی پر آباد ہیں۔ پاکستان میں یہ حالت ہے کہ

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مصر کا نہری نظام پاکستانی نہری نظام کے دس فیصد کے برابر ہے۔ مصر کو تین چوتھائی خوراک باہر سے خریدنا پڑتی ہے۔ پاکستان گندم، چاول، چینی اور گوشت اکثر باہر بھیجتا ہے۔

اہلِ مصر ساڑھے سات ہزار فٹ بلند طورِ سینا کو پہاڑ سمجھتے ہیں۔ پاکستانی 20، 25 ہزار فٹ اونچے تین عظیم پہاڑی سلسلوں (ہمالیہ، قراقرم، ہندو کش) کو بھی باپ کے ترکے جیسا سمجھتے ہیں۔

مگر مصر کو خوب اندازہ ہے کہ وہ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے اور نہر سویز کی شکل میں عالمی تجارتی کنجی پر اس کا ہاتھ ہے۔ چنانچہ مصر ایک ہاتھ سے کینال ٹرانزٹ فیس گنتا ہے، دوسرے ہاتھ سے امریکی و سعودی نذرانے وصولتا ہے، آواز لگا کر سالانہ 12 لاکھ غیر ملکی سیاحوں کو فرعونی ماضی بیچتا ہے۔ بزعمِ خود شمالی افریقہ کا چوہدری اور مشرقِ وسطی کا ڈپٹی چوہدری بھی ہے۔

سنگاپور نے گذشتہ 60 برس میں سوائے اس کے کیا کیا کہ آبنائے ملاکا کے دہانے پر واقع ہونے کے جغرافیائی اتفاق کو گڈ گورننس اور مثالی اقتصادی مینیجنمٹ کی ترکیب سے خالص بہتے منافع میں بدل ڈالا۔

پاکستان عالمی تیل و گیس کے نصف ذخائر کے راستوں پر اور یورپ و ایشیا کو جوڑنے والے وسطی، مغربی، شمالی و جنوبی راہداریوں کے کنارے بیٹھا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس وقت پاکستان ایشیا کی چاروں سمتیں ملانے والی فعال تجارتی گذرگاہ ہوتا اور ہر علاقائی ملک کے لیے مواصلاتی اعتبار سے اتنا ناگزیر ہو جاتا کہ بھارت تک نہ چاہتے ہوئے اس سے نبھا کے رکھنے پر مجبور ہوتا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سردِ جنگ کی زنجیریں ٹوٹنے کے بعد پاکستان کو ایران سے چین اور وسطی ایشیا سے بھارت جانے والے راستوں، تیل اور گیس کی پائپ لائنوں اور ان کے ساتھ ساتھ پنپنے والے سروس سیکٹر پر عائد ٹیکسوں، ٹرانزٹ فیس اور رائلٹی گننے سے ہی فرصت نہ ہوتی۔

پر ہائے وہ نفسیاتی پیچ کہ جس کے آگے الجھی زلفِ محبوب بھی ہیچ۔

دیکھا یہ گیا ہے کہ جس آدمی کا بچپنا شدید عدم تحفظ کے تجربے سے گزرا ہو، اسے بعد میں بھی کوئی ایسا سرپرست درکار رہتا ہے جس پر وہ اندھا اعتماد کر سکے اور انگلی پکڑ کے چل سکے۔وہ اپنے مقدر کے فیصلے خود کر ہی نہیں پاتا۔

اب جبکہ اکیسویں صدی کی رنگا رنگ اقتصادی چھتری تیزی سے نئے بیابانوں پر کھل رہی ہے، پاکستان چاہے تو قدرت کی عطا کردہ انہونی جغرافیائی پوزیشن کو پوری طرح اپنے فائدے کے لیے برت لے۔ یا پھر اسے کسی قیمتی کھلونے کی طرح سینے سے لگائے رکھے۔نہ دوسرے بچوں کے ساتھ شئیر کرے، نہ خود اس ڈر سے کھیلے کہ ٹوٹ ہی نہ جائے، کوئی چھین ہی نہ لے۔

محلے کے بچے کچھ دیر تو اس کھلونے کو ٹکٹکی باندھے دیکھیں گے پھر سب بھول بھال کر ساتھ والے میدان میں آپس میں کھیلنا شروع کر دیں گے۔ ضرورت وہ فقیر ہے جسے ایک در سے بھیک نہ ملے تو دوسرا در کھل جاتا ہے۔

در کھلا تھا مگر ادھر نہ گئے

ہم تو دیوار ہی سے واقف تھے (عباس)

اسی بارے میں