پاناما لیکس: ’حکومت اور اپوزیشن میں اختلافات برقرار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہمارے نزدیک حکومت اس کوشش میں ہے کہ اس معاملے کو لٹکایا جائے :سینیٹر محمد علی سیف

پاکستان میں پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے ضوابط کار طے کرنے کے لیے قائم پارلیمانی کمیٹی کو بنے دو ہفتے مکمل ہو گئے ہیں تاہم اس ضمن میں کوئی قابل ذکر پیش رفت ممکن نہیں ہو ئی ہے۔

’میاں صاحب ڈٹ جاؤ ویکھی جائے گی‘بچاؤ کا راستہ کیا ہے؟

پاکستان میں پامانا لیکس، آف شور کمپنیوں، سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے قرضے معاف کروانے اور بدعنوانی کی تحقیقات کا طریقۂ کار طے کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن دو ہفتے قبل جاری ہوا تھا اور اس سے اگلے دن اس کا پہلا اجلاس بھی ہوا تھا۔

اس کمیٹی کو ضوابط کار بنانے کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا گیا تھا۔

اب اس کمیٹی کا آئندہ اجلاس کل یعنی منگل کو ہے لیکن ابھی تک بظاہر فریقین میں ضوابط کار پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

کمیٹی میں شامل حزب مخالف کی جماعتوں کا اجلاس پیر کو منعقد ہوا جس میں حکومت کی جانب سے دوبارہ بھیجےجانے والے ضوابط کار کو پھر سے مسترد کر دیا گیا۔

پیر کو قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف نے ضوابط کار طے کرنے کے حوالے سے حکومتی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت لچک نہیں دکھا رہی ہے۔

پیر کو اپوزیشن کے رہنماؤں کے اجلاس میں شامل ایم کیو ایم کے رہنما سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے بی بی سی کو بتایا کہ اپوزیشن نے حکومت کو ضابطہ کار سے متعلق 15 سوالات بھیجے تھے اور اس کے جواب میں ہمیں حکومت نے اپنے سوالات بھیجے جس میں کوئی نئی چیز نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ منگل کو پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہے اور اس میں حکومتی ارکان سے اس معاملے پر بات کی جائے گی۔

’دونوں پارٹیوں( فریقین) میں اختلافات ہیں اور اتفاق رائے نہیں ہو پا رہا، ایک چیز پر متفق ہوتے ہیں تو دوسری پر اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس وقت بات چیت ہو رہی ہے اس لیے دو ہفتوں کا جو وقت دیا گیا تھا وہ کوئی حقیقت پسندانہ نہیں تھا۔‘

اپوزیشن کی جانب سے پہلے عدالتی کمیشن کے لیے ضوابط کار وزیراعظم نواز شریف کو بھیجے گئے اور انھیں موصول ہونے سے پہلے ہی حکومت نے انھیں’بدنیتی‘ پر مبنی قرار دے دیا گیا تھا۔

اپوزیشن کی جانب سے حکومت کی ساکھ متاثر کرنے کے لیے اس معاملے کو زیادہ طول دینے کی قیاس آرائیوں کے بارے میں سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ ’ہمارے نزدیک حکومت اس کوشش میں ہے کہ اس معاملے کو لٹکایا جائے تاکہ یہ دب جائے اور اسے مزید وقت ملے جائے۔ اس میں شکوک و شبہات بھی ہیں لیکن اس معاملے کو حل کرنے کے حوالے سے ہم سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔‘

ادھر حکومت کی جانب سے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے ایک نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’ کوئی ڈیڈ لاک تو نہیں ہے۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے کے حل کے لیے کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی جا سکتی اور یہ اپوزیشن کی سنجیدہ بات چیت پر منحصر ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو ٹی او آرز کے حوالے سےحکومت نے تین مرتبہ ڈرافٹ بنا کر دیے ہیں۔

اسی بارے میں