پشاور میں سیوریج کا پانی ’پولیو کے وائرس سے پاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کہ صوبے خیبر پختونخوا میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت پشاور میں سیوریج کے پانی کے تجزیوں میں پہلی مرتبہ وہاں پولیو کا وائرس نہیں ملا ہے۔

انسداد پولیو کے لیے قائم ایمرجنسی سینٹر کے صوبائی افسر ڈاکٹر محمد اکرم شاہ نے بتایا کہ پشاور میں گذشتہ کچھ عرصہ سے سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی موجودگی ثابت ہوتی رہی ہے۔

٭ پشاور میں پولیو ویکسین سے انکار پر 70 افراد گرفتار

انھوں نے بتایا کہ رواں سال اپریل اور مئی کے مہینوں میں پشاور میں سیوریج کے پانی کے جن نمونوں کا تجزیہ کیا گیا ان میں پولیو وائرس موجود نہیں تھا۔

ڈاکٹر اکرم شاہ کا کہنا تھا کہ پشاور کے علاقے شاہین مسلم ٹاؤن، لڑمہ اور ڈانڈو پل ایسے مقامات ہیں جہاں اکثر اوقات سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس پایا جاتا رہا ہے اور ان علاقوں سے ہر دو تین ماہ کے بعد پانی کے نمونے حاصل کر کے اُنھیں ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر اکرم شاہ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ شہر کے سیوریج کے پانی کو پولیو سے پاک قرار دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’انسدادِ پولیو کے لیے ہماری کوششیں رنگ لا رہی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیماری مکمل طورپر ختم ہوگئی ہے۔‘

سرکاری اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ پشاور ایسا شہر ہے، جہاں دوسرے علاقوں اور پڑوسی ملک افغانستان سے لوگوں کا آنا جانا رہتا ہے اور اگر اس دوران یہاں پھر ایسے بچے آجاتے ہیں جن کی ویکسینیشن نہیں ہوئی ہے اور وہ پشاور میں قیام کریں گے تو سیوریج کے پانی میں وائرس کے پائے جانے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔‘

خیال رہے کہ حال ہی میں عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران پاکستان سے پولیو کی بیماری کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں ادارے کے نمائندے ڈاکٹر مائیکل تھیئرن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ رواں سال پاکستان اور اس کے پڑوسی ملک افغانستان میں پولیو کے معدودے چند مریض ہی سامنے آئے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان دنیا میں وہ آخری ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی وبائی مرض کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔

اسی بارے میں