فاروق ستار کے گھر کا محاصرہ، ایم کیو ایم کی احتجاج کی کال

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ریجنرز کی جانب سے فاروق ستار کے گھر کے محاصرے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی مومنٹ نے رینجرز کی جانب پارٹی کے سینئیر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی فاروق ستار کے گھر کا محاصرہ کرنے اور مبینہ طور پر برا سلوک کرنے کے خلاف بدھ کو سندھ کے مختلف شہروں میں ہڑتال کی کال دی ہے۔

’آفتاب احمد کی ہلاکت ناقابلِ قبول‘

منگل کی شب فاروق ستار نے رینجرز کی جانب سے گھر کا محاصرہ ختم کرنے کے بعد گھر کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر ڈی جی رینجرز انھیں فون کر کے کہتے کہ ہمیں ایک اطلاع ملی ہے کہ شاید کوئی مجرم آ پکے ہاں ہو۔ اگر ڈی جی رینجرز یہ کہہ دیتےتو میں اپنے گھر کی تلاشی دے دیتا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم پاکستانی ہیں یا نہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ کہ کیا سینئر ڈپٹی کنوینر کا بھی اعتبار نہیں اور ان پر بھی شک کیا جائے گا کیا وہ مجرموں کو چھپائیں گے؟

بعد ازاں ایم کیو ایم کی جانب سے جاری کیے جانے والے تحریری بیان میں بتایا گیا کہ کراچی کی پی آئی بی کالونی میں واقع پارٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر فاروق ستار کی رہائش گاہ پر رینجرز کی بھاری نفری نے دھاوا بولا۔

بتایا گیا ہے کہ فاروق ستار کے گھر کے دروازے کو لاتوں اور رائفلوں سے پیٹا گیا۔

ایم کیو ایم نے اس تحریری بیان میں عوام سے اپیل کی ہے کہ اس واقعے پر احتجاج کریں اور کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند رکھیں۔

اس واقعے کے حوالے سے رینجرز کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں