قبائلی ملک کی گاڑی پر حملہ، دو ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دھماکے میں دو محافظ ہلاک اور ایک زخمی ہوا

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے مہمندایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف قبائلی لشکر کے ایک اہلکار کی گاڑی پر ہونے والے بم حملےمیں دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

پولیٹکل ایجنٹ مہمند ایجنسی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ منگل کی صبح تحصیل صافی کے علاقے زیارت کلی میں ہوا۔ بیان کے مطابق حکومتی حامی قبائلی لشکر کے رہنما ملک ایاز اپنے محافظوں سمیت جارہے تھے کہ اس دوران ان کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق دھماکے میں دو محافظ ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

ادھر اس حملے کی ذ مہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار نے قبول کرلی ہے۔

مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے چار مکانات کو مسمار کردیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کاروائی تحصیل حلیم زئی کے علاقے میاں منڈی میں کی گئی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کاروائی کے دوران پولیٹکل انتظامیہ اور حلیم زئی قبیلے کے مشران بھی موجود تھے۔

مہمند ایجنسی میں گذشتہ تقریباً دو ماہ سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے۔

ایجنسی بھر میں سکیورٹی فورسز اور قبائلی مشران پر تواتر سے جاری شدت پسند حملوں سے علاقے میں خوف کی فضا ایک مرتبہ پھر سے بڑھتی جارہی ہے۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ان حملوں کے باعث کئی علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی بھی ہے۔

مہمند ایجنسی میں تین دن پہلے تمام قبیلوں کے ایک جرگے میں مقامی انتظامیہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر قبائل نے اجتماعی ذمہ داری کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں تو علاقے میں پھر سے آپریشن کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔

علاقے میں کچھ عرصہ سے غیر اعلانیہ طورپر رات کا کرفیو بھی نافذ ہے جبکہ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔

اسی بارے میں