پانامہ لیکس: معاملہ ’جوں کا توں‘

اعتزاز احسن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ہم نے حکومت کے چار میں سے تین نکات تسلیم کر لیے ہیں‘

پاکستان میں حکومت اور اپوزیش کے درمیان مجوزہ عدالتی کمیشن کے ضوابط کار طے کرنے کے لیے دو ہفتوں سے جاری مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے اور اختلاف جوں کے توں موجود ہیں۔

پاناما پیپرز میں کیے گئے انکشافات کے بعد اپوزیش کے مطالبے پر عدالتی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیش ارکان پر مشتمل ایک بارہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی جس میں دونوں جانب سے چھ چھ ارکان شامل کیے گئے تھے انھیں اس مجوزہ کمشین کے ضوابط کار طے کرنے تھے۔

اس پارلیمانی کمیٹی کو ابتدا میں دو ہفتے کا وقت دیا گیا تھا لیکن دو ہفتے گزر جانے کے باوجود ضوابط کار پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

منگل کو اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما سینٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ ’ہم نے حکومت کے چار میں سے تین نکات تسلیم کر لیے ہیں اور چوتھے میں ترمیم کر کے حکومتی نمائندوں کو پیش کی گئی ہے۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ معاملہ ’جوں کا توں‘ ہے۔

جب ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی پش رفت ہوئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’حزبِ اختلاف نے اپنا مسودہ ہمیں پیش کیا ہے۔ ہم قانونی ماہرین سے مشاورت کریں گے اور آئندہ اجلاس میں اس کا جواب دیں گے۔‘

انھوں نے ان نکات کی وضاحت نہیں کی جو حزبِ اختلاف کے بقول مان لیے گئے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے بھی کہا کہ بات وہیں اٹکی ہوئی ہے۔

’حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی توجہ وزیرِ اعظم کی ذات پر ہے جبکہ ہم تحقیقات کا دائر کار وسیع کرنا چاہتے ہیں۔‘

چھ جون کو قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے ایوان میں کہا کہ تھا ’ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ضوابطِ کار پر بات چیت تا حیات چلے گی۔‘ ان کے بقول اس کی وجہ حکومت کی ضد ہے۔

منگل کے اجلاس سے قبل، چھ جون کو ہی میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ پاناما لیکس پر تحقیقات سے وزیرِ اعظم اور ان کے خاندان کو استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا۔

خیال رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی نے 24 مئی کو پاناما لیکس، کک بیکس اور سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے قرضے معاف کروانے کی تحقیقات کے بارے میں ضابطہ کار طے کرنے کے لیے 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کی تھی جسے ضوابطِ کار طے کرنے کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا گیا تھا۔

اس کا آئندہ اجلاس اب جمعہ یعنی 10 جون کو ہو گا۔

اسی بارے میں