پاکستان کسی سفارتی تنہائی کا شکار نہیں: فاطمی

پاکستان میں خارجہ امور پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے اس تاثر کو سختی سے رد کیا ہے کہ بھارت کی جارحانہ خارجہ پالیسی اور خطے کے ملکوں سے بڑے بڑے تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کی وجہ سے پاکستان سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے ان خدشات کی بھی نفی کی کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان گہری ہوتی ہوئی دوستی کا سایہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر پڑ سکتا ہے۔

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے طارق فاطمی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2013 کے بعد سے جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تھی امریکہ اور پاکستان کے تعلقات مستحکم ہوئے ہیں اور ان میں بہتری آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹیجک ڈائیلاگ کا سلسلہ بحال ہوا ہے اور توانائی، تعلیم اور دیگر شعبوں میں بھی تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔

طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان خطے میں اور خاص طور پر افغانستان میں قیام امن کے لیے جو کردار ادا کر رہا ہے اس کی امریکہ نے کھلے عام بھی اور بند اجلاسوں میں بھی تعریف کی ہے۔

خطے کے ملکوں کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون جس سطح پر پہنچ گیا ہے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ روس سے تجارت اور کامرس کے علاوہ توانائی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کے لیے وسیع تر بات چیت چل رہی ہے۔

اس سلسلے میں انھوں نے ترکمانستان کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے اور تاجکستان کے ساتھ بجلی کی فراہمی کے ’کاسا‘ 1000 کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں سے بھی تعاون اور تعلقات بھی بہتر اور مضبوط ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے نیوکلیئر سپلائی گروپ میں شامل کیے جانے کے مطالبے پر انھوں نے کہا کہ اس سال 18 مئی کو پاکستان نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کو سرکاری طور پر مطلع کر دیا ہے کہ پاکستان نیوکلیئر سپلائی گروپ کے تمام تقاضوں کو پورا کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے این ایس جی کو یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کی جوہری شعبے میں مہارت، تکینکی تجربہ اور اس کا نیوکلیئر سیفٹی اور سکیورٹی کا ریکارڈ ہی اس گروپ میں شمولیت کی بنیاد بن سکتا ہے۔

نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارت کی شمولیت کے سوال کے بارے میں انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے دلچسپ بات یہ ہے کہ نیوکلیئر سپلائر گروپ بھارت کے 1947 میں جوہری تجربے کے ردعمل میں بنایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت نے ایٹم بم کا تجربہ کر کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی دھجیاں بکھیر دیں تھیں۔

خیال رہے کہ بدھ کو ہی پاکستان نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کو متنبہ کیا ہے کہ کسی خاص ملک کو اس کی رکنیت سے دور رکھنے کی مخصوص شرائط جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہیں۔

یہ بات اس گروپ میں شامل ممالک کے اسلام آباد میں تعینات سفارت کاروں کو ایک بریفنگ کے دوران کی گئی۔

اس سے پہلے بدھ کو وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ (اقوام متحدہ اور اکنامک کوارڈینیشن) تسنیم اسلم نے سفارت کاروں کو اس بریفنگ میں پاکستان کی اس گروپ کی رکنیت کے لیے درخواست کی ٹھوس بنیاد سے آگاہ کیا۔

تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا تکنیکی تجربہ، جوہری عدم پھیلاؤ، تحفظ اور سکیورٹی سے متعلق مصمم عزم اسے امیدوار بناتا ہے۔

انھوں نے تاہم متنبہ کیا کہ این ایس جی ممالک کو چاہیے کہ وہ غیر جانبدارانہ اور معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے رکن سازی کریں ورنہ اگر کسی خاص ملک کو اس سے دور رکھنے کی شرائط جنوبی ایشیا میں سٹریٹیجک استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔

پاکستان نے نیوکلیر سپلائرز گروپ کو متنبہ کیا ہے کہ کسی خاص ملک کو اس کی رکنیت سے دور رکھنے کی مخصوص شرائط جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہ بات اس گروپ میں شامل ممالک کے اسلام آباد میں تعینات سفارت کاروں کو ایک بریفنگ کے دوران کی گئی۔

اسی بارے میں