’اب جال میں مچھلی کے بجائے پلاسٹک کی تھیلیاں‘

Image caption ابراہیم حیدری کے مچھیرے اپنی آنکھوں کے سامنے سمندر کو اجڑتے دیکھ رہے ہیں

کراچی میں مچھیروں کی بستی ابراہیم حیدری اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سمندر کو دفن کیا جا رہا ہے۔

ان علاقوں میں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں کوڑا لے کر آتی ہیں اور ساحل سمندر پر پھینک دیتی ہیں۔

بعض لوگ یہ کام کھلے عام تو کچھ چھپ کر رہے ہیں، یہ وہ کوڑا ہے جو لوگوں نے گلیوں اور بازاروں میں پھینک کر چھٹکارہ حاصل کر لیا تھا لیکن شہری حکومت کی گاڑیاں روزانہ ٹنوں کوڑا لے کر یہاں آتی ہیں اور بعض مزدور اس میں سے اپنے کام کی اشیا نکال کر باقی کو آگ لگا دیتے ہیں۔

*سمندر سے لڑائی

جیسے جیسے یہ کوڑا سمندر میں پیش قدمی کر رہا ہے ویسے ویسے آبی حیات کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ کوڑے میں شامل پلاسٹک نہ تو پانی میں گھلتا ہے اور نہ آبی حیات اس سے غذا حاصل کر سکتی ہے۔

Image caption ساحل پر کوڑے کی وجہ سے آبی حیات کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں

ابراہیم حیدری کے مچھیرے اپنی آنکھوں کے سامنے سمندر کو اجڑتے دیکھ رہے ہیں لیکن کرکچھ نہیں سکتے جبکہ مقامی طور پر بااثر لوگوں کے ملوث ہونے کی وجہ سے مچھیرے اس معاملے پر بات کرنے سے بھی کتراتے ہیں۔

سلگتے کچرے کے ڈھیر کے قریب جیٹی پر موجود ایک ماہی گیر عبدالعزیز نے بتایا کہ یہ سارا کچرا لاکر ہمارے سمندر میں پھینک رہے ہیں، وہ جال پھینکتے ہیں تو مچھلی کی جگہ پلاسٹک کی تھیلیاں نکل آتی ہیں اس کے علاوہ اس کچرے کی وجہ سے جال بھی کٹ جاتے ہیں۔

’گندگی کی وجہ سے مچھلیاں دور چلی گئی ہیں ہمیں ان کے پیچھے دور جانا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے خرچہ زیادہ ہوتا ہے اور آمدنی کم ہوتی جا رہی ہے۔‘

پاکستان کا ساحل 1050 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جس میں سے 350 کلومیٹر سندھ میں موجود ہے۔

یہ سمندر تجارت کے علاوہ لاکھوں لوگوں کے روزگار کا وسیلہ ہے صرف کراچی میں 20 ہزار چھوٹی بڑی کشتیاں رجسٹرڈ ہیں، آلودگی کی وجہ سے پاپلیٹ اور جھینگے سمیت کئی اقسام کی مچھلی اب نایاب ہوگئی ہیں۔

Image caption کراچی میں سمندری آلودگی تشویشناک حد سے بھی بڑھ چکی ہے

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سمندری آلودگی کی 80 فیصد وجہ زمینی ذرائع ہیں یعنی شہری اور صنعتی فضلہ۔

کراچی واٹر اور سیوریج بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق شہر میں روزانہ 650 ملین گیلن پانی کی فراہمی کی جاتی ہے، جس میں سے گھروں اور صنعتوں سے خارج ہونے والے 417 ملین گیلن پانی کی ٹریٹمنٹ نہیں ہوتی اور یہ سمندر میں چلا جاتا ہے اس کے علاوہ روزانہ 8000 ٹن کوڑا اکٹھا کیا جاتا ہے جس کی بھی بڑی مقدار سمندر برد کی جا رہی ہے تاکہ سمندر سے زمین حاصل کی جا سکے۔

لیاری اور ملیر ندیاں گھریلو اور صنعتی فضلہ لیکر سمندر تک پہنچا رہی ہیں اس کے علاوہ ریڑھی گوٹھ کے مقام پر کورنگی کی صنعتوں اور بھینس کالونی کا فضلہ سمندر میں شامل ہو رہا ہے۔

گھریلو اور صنعتی فضلے کی ٹریٹمنٹ کے لیے کسی زمانے میں چار ٹریٹمنٹ پلانٹ موجود تھے جو کافی عرصے سے ناکارہ ہیں جبکہ سات ارب کی مالیت سے ایس تھری ٹریٹمنٹ پلانٹس کا منصوبہ تاحال زیر تعمیر ہیں حالانکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سپریم کورٹ کو بھی اس کی جلد تعمیر کی یقین دہانی کرا چکی ہیں۔

عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق کراچی میں سمندری آلودگی تشویش ناک حد سے بھی بڑھ چکی ہے۔

Image caption کراچی میں آلودہ پانی کی صفائی کے پلانٹ ناکارہ ہو چکے ہیں

ادارے کے ٹیکنیکل ایڈوائزر محمد معظم کا کہنا ہے کہ سمندر ایک نعمت ہے ڈمپنگ گراونڈ نہیں۔ اس میں ٹھوس فضلہ تو جانا ہی نہیں چاہیے جبکہ گھریلو اور صنعتی مایا فضلے کو ٹریٹمینٹ کے بعد چھوڑنا چاہیے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کراچی میں تمام ہی اقسام کی صنعت یہاں موجود ہے، جن میں کپڑے اور چمڑے کے کارخانوں کے علاوہ بیٹریاں اور دوائیں بنانے والی فیکٹریاں بھی شامل ہیں ان کے کیمیکل اور مواد ری سائیکل یا دوبارہ قابل استعمال نہیں ہو سکتا، جو رفتہ رفتہ ماحول میں شامل ہوتا جا رہا ہے اور نتیجے میں کراچی اور اس کے آس پاس کے سمندری علاقے اس وقت شدید آلودہ ہو چکے ہیں۔‘

محمد معظم کے مطابق کوئی بھی آلودگی اگر کم مقدار میں ہو تو جاندار زندہ رہتا ہے لیکن اس کی جسم میں وہ شامل ہوتی جاتی ہے، لہٰذا جو جاندار کراچی اور اس کے مضافات میں ملتے ہیں آلودگی کا شکار ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف اوشنو گرافی کی پرنسپل سائینٹیفک افسر ڈاکٹر نزہت خان کا کہنا ہے کہ سمندر میں دو رخ سے آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے ایک صنعتی فضلے اور دوسرا ماحول کے ذریعے۔

’سمندر ماحول کو بھی صاف رکھنے کا ایک طریقہ ہے وہ کاربان ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گیسوں کو جذب کرتا ہے، ہم جتنا ہوا کو آلودہ کرتے ہیں اتنا ہی سمندر کو بھی آلودہ کرتے ہیں، گرین گیسز سمندر میں شامل ہو کر کاربونک ایسڈ بناتی ہیں جس کی وجہ سے سمندر میں تیزابیت بڑھ رہی ہے۔

سندھ کا محکمہ ماحولیات سمندری کی آلودگی روکنے میں کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکا ہے۔

Image caption ساحلوں پر آلودگی کی وجہ سے مچھیروں کو مچھلیاں پکڑنے لیے زیادہ رقم خرچ کر کے گہرے سمندر میں جانا پڑتا ہے

محکمے کے ڈائریکٹر نعیم مغل کا کہنا ہے کہ کوڑا پھینکنے میں کراچی میونسپل کارپوریشن اور چھ ضلعی میونسپل کاپوریشنز ملوث ہیں، وہ انھیں وقت فوقت نوٹس جاری کرتے ہیں۔

ماحولیات کی شکایت سننے اور ان ازالے کے لیے ماحولیات ٹربیونل بھی موجود ہے لیکن سرکاری اور نجی ادارے اس سے رابطہ نہیں کرتے۔

ڈائریکٹر نعیم مغل کے مطابق سرکاری محکمے ملوث ہیں اس وجہ سے وہ ٹریبونل سے رجوع نہیں کرتے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف اوشنو گرافی کے پرنسپل افسر ڈاکٹر نذہت خان کا کہنا ہے کہ مقامی قوانین کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن بین الاقوامی قوانین نہیں جو آنے والے دنوں میں سخت ہوتے جائیں گے۔

’سمندری خوراک کا معیار ٹھیک نہیں تو تجارت نہیں کر سکتے، اسی طرح بحری جہاز ان پر اینٹی فولنگ رنگ ماحول دوست نہیں ہے تو وہ مزید نہیں چلیں گے۔اسی طرح بحری جہاز اپنے نظام کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی جس سمندر سے حاصل کرتے ہیں وہ صاف ہے کہ نہیں اس کی بھی نگرانی ہوگی۔‘

اسی بارے میں