شیریں مزاری سے معافی نہ مانگنے پر اپوزیشن کا واک آؤٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے کسی کا نام لے کر وہ الفاظ نہیں کہے تھےاور اگر ایوان چاہے تو بدھ کے روز ایوان کی کارروائی نکال کر سن لے

قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے ادا کردہ نازیبا الفاظ پر تحریکِ انصاف کی رکن شیریں مزاری کا نام لے کر معافی نہ مانگے جانے پر اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا ہے۔

یہ واقعہ بدھ کو پیش آیا تھا جب خواجہ آصف نے اپنی تقریر کے دوران کچھ غیر پارلیمانی کلمات ادا کیے تھے۔

جمعرات کو جب اگلی مالی سال کے بجٹ پر بحث کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو سپیکر قومی اسمبلی نے اس سلسلے میں خواجہ آصف کی طرف سے پیش کی جانے والی تحریری معافی پڑھ کر سنائی جسے حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے مسترد کر دیا۔

اس موقع پر شیریں مزاری نے کہا کہ خواجہ آصف کو ایوان میں آ کر معافی مانگنی چاہیے، محض تحریری معافی سے کام نہیں چلے گا۔

کچھ دیر بعد خواجہ آصف اسمبلی میں آئے اور پوائنٹ آف آرڈر پر تقریر کرتے ہوئے اس واقعے پر غیر مشروط معافی مانگی۔

اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے بدھ کو جو ریمارکس دیے تھے وہ نہیں دینے چاہیے تھے اور اگر ان کی باتوں سے کسی رکن کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اس پر غیر مشروط معافی مانگتے ہیں۔

تاہم شیریں مزاری اس معافی پر بھی مطمئن نہیں ہوئیں اور کہا کہ چونکہ خواجہ آصف نے اُن کا نام لے کر نامناسب الفاظ کہے تھے اس لیے اُنھیں (شیریں مزاری کا) نام لے کر معافی مانگنی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

اس پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے کسی کا نام لے کر وہ الفاظ نہیں کہے تھےاور اگر ایوان چاہے تو بدھ کے روز ایوان کی کارروائی نکال کر سن لے۔

ان کے اس بیان پر حزب مِخالف کی جماعتیں ایوان سے واک آؤٹ کرگئیں۔

اجلاس کے دوران حزب مخالف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ اُنھیں نے ایوان کے ماحول کو ٹھیک رکھنے کے لیے اپنا آئینی کردار ادا نہیں کیا۔

قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے سپیکر ایاز صادق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے خواجہ آصف کی تحریری معافی نامہ تو پڑھ لیا ہے لیکن اس تحریک استحقاق نہیں پڑھی جو شیریں مزاری نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ خواجہ آصف کے ان ریمارکس پر پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے اور ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ میں سنجیدگی سے کام نہیں ہو رہا۔

شازیہ مری کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کی تحریری معافی کے معاملے پر اب ایوان کو فیصلہ کرنا ہے ۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں اور اس معاملے پر کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر شیریں مزاری بدھ کو اُن کے کہنے پر بیٹھ جاتیں تو معاملہ اس قدر آگے نہ بڑھتا، تاہم اس کے باوجود اُنھوں نے خواجہ آصف کے ریمارکس کارروائی سے حذف کروا دیے۔

دوسری جانب حکمراں جماعت کی رکن شائشہ پرویز ملک نے قومی اسمبلی کی خواتین ارکان کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں خواجہ آصف کے ریمارکس کے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا جائے گا۔

اسی بارے میں