لاہور میں پسند کی شادی پر’ماں نے بیٹی کو زندہ جلا دیا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں حکام کے مطابق پسند کی شادی کرنے والی نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر اس کی والدہ نے جلا کر قتل کر دیا۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس کینٹ ڈویژن عبادت نثار کے مطابق تھانہ فیکٹری ایریا کی حدود میں مست اقبال روڑ کی رہائشی 17 سالہ زینت نے تقریباً ایک ہفتہ قبل 29 مئی کو گھر سے فرار ہو کر پسند کی شادی کی تھی، جس پر اس کے گھر والے شدید ناراض تھے۔

پولیس افسر کے مطابق دو روز قبل لڑکی کے گھر والے اسے یہ سمجھا کر واپس گھر لائے کہ وہ باقاعدہ طور پر اس کی رخصتی کریں گے تاہم گھر لاکر زینت پر پیٹرول چھڑک کر اسے آگ لگا دی گئی، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگئی۔

پولیس کے مطابق’ لڑکی کی والدہ پروین نے اقبال جرم کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اس پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگائی۔‘

Image caption ’لڑکی کی والدہ پروین نے اقبال جرم کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اس پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگائی‘

ایس پی عبادت نثار نے بتایا کہ وہ مقتول لڑکی کے دبئی سے آنے والے بھائی انیس کو تلاش کر رہے ہیں، جو واقعے کے بعد سے فرار ہے۔

انھوں نےبتایا کہ ابتدائی تفتیش سے ظاہر ہو رہا ہے کہ لڑکی کے گلے میں پھندہ ڈال کر اس کا گلہ بھی دبایا گیا ہے اور آگ بھی لگائی گئی ہے تاہم پوسٹ مورٹم رپورٹ کے بعد ہی فیصلہ کیا جا سکتا ہے کے زینت کی موت کیسے ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ’ہمیں مقتولہ کے بھائی پر بھی شبہ ہے کونکہ جس طرح سے قتل گیا ہے ، یہ جرم ایک 50 سالہ بوڑھی خاتون اکیلے نہیں کر سکتی۔‘

زینت کے شوہر احسن خان نے بتایا کہ وہ زینت کو سکول کے دنوں سے جانتے تھے۔ جب زینت نے اپنے گھر والوں سے اپنی مرضی سے شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو اسے مارا پیٹا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیاـ۔

انھوں نے کہا ’وہ اب بھی واپس نہیں جانا چاہتی تھی اور کہہ رہی تھی کہ وہ لوگ مجھے نہیں چھوڑیں گے، میرے گھر والوں نے اسے بھیجا، ہمیں کیا پتہ تھا وہ اسے مار دیں گے۔‘

واقعے کے بعد پولیس نے لڑکی کی والدہ کو حراست میں لے تھا جبکہ لڑکی کی تدفین رات کو کر دی گئی۔

Image caption زینت کو خدشہ تھا کہ اس کے والدین اسے مار دیں گے

پولیس کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق مقدمہ درج کیا جا رہا ہے جس میں مدعی زینت کے شوہر احسن خان بنیں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ صوبہ پنجاب کے بالائی علاقے مری میں پانچ ملزمان نے رشتے سے انکار کرنے پر ماریہ بی بی نامی سکول ٹیچر کو مبینہ تشدد کے بعد آگ لگا دی تھی اور بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگئی تھیں۔

اس سے قبل اپریل میں بھی صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں اسی قسم کا ایک واقعہ ہوا تھا، جہاں ایک جرگے کے اراکین کے حکم پر ایک 16 سالہ لڑکی عنبرین کو گلا گھونٹ کر قتل کر کے آگ لگا دی گئی تھی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق گذشتہ سال میں عورتوں کے غیرت کے نام پر تقریباً ایک ہزار قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں