کراچی میں ایم کیو ایم کی ہڑتال کی کال ’بے اثر‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کے گھر کا محاصرہ کرنے پر ہڑتال کی کال دی گئی تھی

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ہڑتال کی اپیل کو مثبت جواب نہیں ملا جبکہ رینجرز اور پولیس نے شہریوں کو مکمل تحفظ کی یقین دہانی کرائی ہے۔

متحدہ قومی مومنٹ نے رینجرز کی جانب پارٹی کے سینیئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی فاروق ستار کے گھر کا محاصرہ کرنے اور مبینہ طور پر برا سلوک کرنے کے خلاف بدھ کو ہڑتال کی کال دی تھی۔

* فاروق ستار کے گھر کا محاصرہ، ایم کیو ایم کی احتجاج کی کال

* ’ریاستی تحویل میں آفتاب احمد کی ہلاکت ناقابل قبول‘

کراچی میں بدھ کی صبح سے سڑکوں پر پبلک اور نجی ٹرانسپورٹ کی روانی معمول کے مطابق جاری ہے جبکہ بولٹن مارکیٹ، جامع کلاتھ، صدر موبائل مارکیٹ اور ایمپریس مارکیٹ سمیت تمام کاروباری مراکز کھلے ہیں اور سڑکوں پر رینجرز اور پولیس کا گشت جاری ہے۔

ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے کہا ہے کہ عوام بلا خوف معمولات زندگی جاری رکھیں، دکانیں بند کرانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

ایک اعلامیے میں انھوں نے کہا ہے کہ رینجرز ہر قسم کی صورت حال میں شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے تیار ہے، شہری ہڑتال کے اعلانات پر کان نہ دھریں اور آزادی کے ساتھ گاڑیاں سڑکوں پر نکالیں، پیٹرول پمپ معمول کے مطابق کھولے جائیں۔

دوسری جانب آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بھی تمام ایس ایس پیز کو ہدایت کی ہے کہ شہر میں کاروبار اور ٹریفک بند کرانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ افسران سڑکوں پر موجود رہیں اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو متعلقہ افسر ذمہ دار ہوگا۔

یاد رہے کہ نائن زیرو پر چھاپے کے بعد ایم کیو ایم عوامی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنے سے احتیاط برتی رہی ہے، اس سے قبل چھوٹے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے لیکن عام ہڑتال کی اپیل نہیں کی گئی۔

دریں اثنا ایم کیو ایم کے اراکین نے قومی اسمبلی سے بھی واک آؤٹ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس اور رینجرز کے اہلکار سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت انھیں مطمئن نہیں کرتی ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

یاد رہے کہ رینجرز نے گذشتہ شب پیر الاھی بخش کالونی میں ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے گھر کے محاصرہ کر لیا تھا۔

محاصرہ ختم ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اگر ڈی جی رینجرز انھیں فون کر کے کہتے کہ ہمیں ایک اطلاع ملی ہے کہ شاید کوئی مجرم آپ کے ہاں ہو۔ اگر ڈی جی رینجرز یہ کہہ دیتےتو میں اپنے گھر کی تلاشی دے دیتا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم پاکستانی ہیں یا نہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ کیا سینیئر ڈپٹی کنوینر کا بھی اعتبار نہیں اور اب ان پر بھی شک کیا جائے گا کہ وہ مجرموں کو چھپائیں گے؟

اس واقعے کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے جاری کیے جانے والے تحریری بیان میں بتایا گیا کہ کراچی کی پی آئی بی کالونی میں واقع پارٹی کے سینیئر ڈپٹی کنوینر فاروق ستار کی رہائش گاہ پر رینجرز کی بھاری نفری نے دھاوا بولا۔

بیان کے مطابق فاروق ستار کے گھر کے دروازے کو لاتوں اور رائفلوں سے پیٹا گیا۔

اسی بارے میں