پارلیمانی نہیں ’بوائز ہاسٹل کی زبان‘ ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستانی سوشل میڈیا پر اس وقت خواجہ آصف کا نام صفِ اول کا ٹرینڈ ہے جس کی وجہ پارلیمان میں ان کی جانب سے پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری کے بارے میں استعمال کیے گئے الفاظ ہیں۔

اور حسبِ معمول اس کے نیچے ایک اور ٹرینڈ ہے جو ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں کی ٹویٹس سے بھرپور ہے مگر اسے یہاں نہیں لکھا جا سکتا۔

پاکستانی پارلیمان میں بدھ کو غیر پارلیمانی زبان کا استعمال پہلی بار نہیں ہوا نہ ہی یہ آخری بار ہوا ہے یہ حال سوشل میڈیا کا بھی ہے۔

دو اہم وزارتوں کے قلمدان رکھنے والے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے جو نازیبا بات پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما شیریں مزاری کے بارے میں کی وہ اپنی جگہ مگر اس پر جو خواجہ آصف کے خاندان کے بارے میں لکھا جا رہا ہے وہ اتنا ہی نازیبا اور اخلاقیات سے دور ہے۔

سب سے پہلے تو پاکستان تحریکِ انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے خواجہ آصف کے اس بیان کو ان کی ’انتخابات میں مبینہ دھاندلی سامنے آنے پر بدحواسی‘ سے تشبیہ دی گئی اور اسے مزید گراوٹ قرار دیا گیا۔

ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں کا دوسری سیاسی جماعت کے کارکنوں پر تنقید کا یہ سنہری موقع ہے اور اس میں ایک دوسرے سے اخلاقیات میں گرنے میں کوئی پیچھے نہیں۔

اس سے قبل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی شیریں مزاری کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے جن پر بعد میں انھوں نے معذرت کی۔ شیخ رشید سابق وزیراعظم کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کر چکے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے لکھا کہ ’خواجہ آصف کا شیریں مزاری کے بارے میں توہین آمیز بیان تمام خواتین پارلیمنٹیرینز کی توہین ہے۔ ان میں اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ وہ معذرت کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

تاہم سماجی کارکن ماروی سرمد نے بی بی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جو زبان سیاستدانوں پارلیمان میں استعمال کر رہے ہیں اسے سن کر ایسا لگتا ہے کہ کوئی بوائز ہوسٹل کا جھگڑا ہے جس میں عورت کو عزت یا بے عزت کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ خواجہ آصف نے ایک بات کی جس پر پی ٹی آئی کے نعیم الحق نے ان کے خلاف بات کی۔‘

بینظیر شاہ نے لکھا کہ ’کیا پارلیمان کی کارروائی سے ان الفاظ کو حذف کرنے سے اور یہ ظاہر کرنے سے کہ یہ کبھی استعمال ہی نہیں ہوئے کافی ہو گا؟‘

ماروی سرمد کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ’ایسے الفاظ کو کارروائی سے حذف کرنا درست نہیں کیونکہ آپ آنے والی نسلوں کو اس حق سے محروم کر رہے ہیں کہ وہ جانیں کہ اُن کے سیاسی رہنما کس قسم کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ اس کا حل وہی ہے جو برطانوی دارالعوام کے سپیکر نے ڈینس سکنر کے ساتھ کیا جب انھوں نے ڈیوڈ کیمرون کے بارے میں غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیے۔‘

معروف کارٹونسٹ صابر نذر نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی زبان پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں خواجہ آصف کی طرف سے پی ٹی آئی کی زبان استعمال کرنے پر شدید تنقید کرتا ہوں۔ ڈیزل پارلیمانی لفظ ہے جبکہ ٹریکٹر ٹرالی غیر پارلیمانی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سینیئر کالم نگار عباس ناصر نے لکھا کہ ’پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ایک دوسرے کے قابل ہیں دونوں کی ایک جیسی زبان ہے اور اظہار کے طریقے ہیں مگر یہ بات یقینی ہے کہ ووٹ دینے والے عوام بہتر کے حقدار ہیں۔‘

کیونکہ ہمارے کئی سیاستدان دوسروں کے بارے میں جو زبان براہِ راست ٹی وہ چینلز اور لائیو جلسوں میں استعمال کر چکے ہیں اس کی فہرست پہلے تو یہاں شائع ہی نہیں کی جا سکتی اور اگر کوئی اسے شائع کر بھی لے تو اس تحریر پر آپ کو NSFW یعنی ’ناٹ سیف فار ورک‘ کی وارننگ لگانی پڑے گی۔

خواجہ آصف کے بیان پر اُن کے خاندان یا شیریں مزاری کے بیان پر اُن کی بیٹی کے خلاف نازیبا باتیں لکھنے والے اپنے آپ کو بہتر اخلاقی سطح پر کیسے ثابت کر سکتے ہیں اور آخر کب تک شیشے کے گھروں میں بیٹھنے والے ایک دوسرے پر سنگ باری کرتے رہیں گے؟