خواجہ آصف کی نظر میں عورت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خواجہ آصف نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں آکر اپنے الفاظ پر غیر مشروط معافی مانگی

خواجہ آصف اِس قوم کے اکیلے سپوت نہیں جو باہر سے بےعِزتی کروا کر، خندہ پیشانی کے ساتھ گالیاں کھا کر واپس گھر لوٹتے ہیں تو دہلیز پار کرتے ہی چھوٹے موٹے فرعون بن جاتے ہیں۔

توقع یہ رکھتے ہیں کہ جو مردانگی گھر سے باہر لٹوا کر آئے عورت اُسے کِسی طرح بحال کرے۔ کبھی ماں کو گھُوری ، بیوی کو لات اور بہن کے سر پر دوپٹہ کیوں نہیں ہے۔

ایک ہی ضِد کیا عورت ایسی ہوتی ہے۔

خواجہ آصف بھی گذشتہ دِنوں فوج کے ہیڈ کوارٹر سے ایک میٹنگ کر کے آئے تھے، وہاں نجانے کیا اچھا بُرا ہوا آتے ہی اسمبلی میں سپیکر صاحب سے کہنے لگے کہ شیریں مزاری کی آواز کو زنانہ بنایا جائے۔

کچھ بے حس لوگ کہیں گے کہ خواجہ آصف خود تو مرد بن نہ سکے اب چلے ہیں شیریں مزاری کو عورت بنانے لیکن مسئلہ صِرف ایک خواجہ کا نہیں ہے عورت کو کِتنی عورت ہونا چاہیے یہ سوال ہمارے ذہنوں پر چھایا رہتا ہے۔

اُس کی آواز کیسی ہونی چاہیے، اُس کی شادی، اُس کے بچے، اُس کا گھر، اُس کا باہر، عورت کب عورت ہے یہ فیصلہ ہمارے گھروں، ہمارے بازاروں میں روز ہوتا ہے۔

قومی اسمبلی کے ایئرکنڈیشنڈ ہنگاموں سے دور لاہور میں زینت نامی ایک لڑکی کو اُس کی ماں نے پٹرول چھڑک کر جلا دیا کیونکہ زینت نے اپنی پسند کی شادی کر کے وہ عورت بننے سے انکار کر دیا جیسا کہ اُسے ہونا چاہیے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دو سالوں میں زینت 300 ویں عورت تھی جیسے جلا کر مکمل عورت بنانے کی کوشش کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption خواجہ آصف کے شیریں مزاری سے معافی نہ مانگنے پر جمعرات کو اپوزیشن نے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا

کِسی زِندہ انسان کو جلانا بظاہر مشکل کام ہے چاہیے وہ 17 سال کی کمزور لڑکی ہی ہو۔ اُس کو پکڑنے، باندھنے کے لیے کچھ ہاتھ چاہیے، کوئی پٹرول چھڑکنے والا بھی چاہیے۔ پھر ایک ہاتھ ماچس جلانے کے لیے۔ تو ایک عورت کو زندہ جلانے کے لیے ایک مختصر سا گروہ چاہیے جو خواجہ آصف کے نظریہ عورت پر یقین رکھتا ہو۔

اِس نظریے کا بنیادی اصول یہی ہے کہ اچھی عورت وہی ہے جو خاموش رہے یا مر جائے۔ ملالہ زندہ ہے اور خاموش بھی نہیں رہتی تو وُہ پوری عورت نہیں ہے۔ مختاراں مائی بھی بولنے سے باز نہیں آتی، برُی عورت۔ بینظیر بھٹو نے بھی آخر اِسی بات کی سزا پائی کہ وہ پوری عورت نہ تھی لیکن چونکہ وہ مر گئی تو اُن کے حِصے میں کچھ گالیاں کم آتی ہیں۔

اگر زندہ رہنا ہی ہے، بولنا ہی ہے، اسمبلی میں بھی آ گئی ہیں تو کم از کم عورتوں کی طرح تو بات کرو۔ ہماری مجروح مردانگی کا تو کچھ خیال کرو۔

غالباً خواجہ آصف جب قومی اسمبلی میں تشریف لائے تو شیریں مزاری سے توقع رکھتے تھے کہ وُہ ایک عورت کی طرح ایک عورت کی زبان میں، عورت کی آواز میں، عورت کے آداب کے ساتھ کچھ ایسے بات کرے۔

خواجہ آصف غصہ جانے دیں سُنا ہے کل آپ نے جی ایچ کیو کا ہنگامی دورہ کیا۔ سب ماتحت جنرلوں کو لائن حاضر کر دیا۔ تصویر میں دیکھا ہم نے، صاف نظر آ رہا تھا سب کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔

وُہ سوٹ والے جنرل صاحب کی تو ٹانگیں کانپ رہی تھیں آپ کا جلال دیکھ کر۔ جنرل باجوہ نے آپ سے کہا کہ میں آج سے ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کر رہا ہوں۔

پرانی گستاخیاں معاف، کیا یہ سچ ہے کہ جنرل راحیل شریف نے آپ کو سلیوٹ کرنے کے بعد بے ساختہ نعرے لگوائے تھینک یو خواجہ آصف، تھینک یو خواجہ آصف۔ اور اِس کے بعد سب نے مل کر کورس گایا کہ جانے کی باتیں جانے دو۔۔۔

چلیں اب تو غصہ جانے دیں، نہر میں ڈبکی لگائیں، سر ٹھنڈا ہو جائے گا۔

اسی بارے میں