’امریکہ افغانستان میں ملا فضل اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

پاکستانی کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے امریکی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں۔

جنرل راحیل شریف نے یہ بات جمعے کو پاکستان کے دورے پر آئے امریکی وفد کے ساتھ جی ایچ کیو ملاقات میں کی۔

٭ ’ امریکی ڈرون حملوں کی مذمت بہت چھوٹا لفظ ہے‘

٭ ڈرون حملے پر آرمی چیف کا ’شدید تشویش‘ کا اظہار

خیال رہے کہ اس سے پہلے کالعدم تحریک طالبان کی مرکزی قیادت بھی امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک ہو چکی ہے۔ ان میں بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود اور نیک محمد بھی شامل ہیں۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی کو پاکستان میں دہشت گردی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

راحیل شریف نے اس بات پر زور دیا کہ شدت پسندوں کے خلاف مشرکہ کارروائیوں کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ بارڈر مینجمنٹ کو مزید بہتر کرنے سے علاقے میں امن واستحکام آئے گا۔

بری فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان پر افغانستان میں عدم استحکام کا الزام عائد جا رہا ہے جب کہ پاکستان افغانستان میں چار ملکی گروپ کی سفارشات کے تحت امن عمل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

امریکی ڈرون حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اس سے شدت پسندوں کے خلاف جاری ضرب عضب سے حاصل ہونے والے فوائد کو نقصان پہنچا ہے۔

امریکی وفد میں افغانستان میں کمانڈر ریزولوٹ سپورٹ مشن کے جنرل جان نکلسن اور پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی مندوب رچرڈ اولسن شامل ہیں جنہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے جنرل ہیڈ کواٹر میں ملاقات سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز سے وزارتِ خارجہ میں ملاقات کی۔

جنرل راحیل شریف نے بلوچستان کے علاقے نوشکی میں 21 مئی کو امریکی ڈرون حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کی جغرافیائی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا کو نقصان پہنچا ہے۔

انھوں نے کہا کہ خطے میں قیام امن کے لیے کی جانے والی تمام تر کوششوں کو کامیاب کرنے کے لیے مشترکہ عزم اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کاوشوں کو مربوط بنانا ہو گا۔

راحیل شریف نے پاکستان میں جاری ضرب عضب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام شدت پسندوں کے خلاف بلاامتیاز شروع کیا گیا تھا اور خطے کے تمام ملکوں کو سمجھنا ہوگا کہ غیر محفوظ سرحد، سرحد کے آر پار قبائلیوں رشتوں اور ملک میں دس سال سے زیادہ عرصے سے موجود تیس لاکھ افغان مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کی مشکلات کس قدر بڑھ جاتی ہیں۔

افغانستان میں عدم استحکام کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا ان کے بقول بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔

اسی بارے میں