تحریک انصاف سے غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تحریک انصاف کی قیادت اس درخواست کی پیروی میں ایک مرتبہ بھی الیکشن کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئی

الیکشن کمیشن نے 18 جولائی کو حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ اور پارٹی کے اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کر لی ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے یہ احکامات پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی درخواست پر دیے۔ اُنھوں نے اس جماعت کو ملنے والی غیر ملکی فنڈنگ میں ہونے والی مبینہ بےضابطگیوں کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

اس درخواست کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے کی۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 18 جولائی تک اس حکم امتناعی پر فیصلہ نہ دیا تو پھر الیکشن کمیشن اس درخواست کی باقاعدہ سماعت شروع کرے گا کیونکہ اس کے پاس اس کا اختیار ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے اس معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے اور اس جماعت کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کسی بھی سیاسی پارٹی کو ملنے والے فنڈز کے بارے میں تحقیقات نہیں کر سکتا۔

الیکشن کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے اس بارے میں جاری کردہ حکم امتناعی اور جماعت کو ملنے والے غیر ملکی فنڈز سے متعلق تفصیلات 18 جولائی کو طلب کر لی ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اس درخواست کی پیروی میں ایک مرتبہ بھی الیکشن کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئی۔

درخواست گزار اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن خود بھی اس بات کا مجاز ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کی فنڈنگ کے بارے میں چھان بین کر سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے کو پاکستان تحریک انصاف کے فنڈز سے متعلق تحقیقات کے لیے درخواست دی گئی ہے اور اگر اس ادارے نے ایسا نہ کیا تو پھر وہ اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخاب 2013 میں الیکشن کمیشن اور حکمران جماعت پر دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں جبکہ حکمران جماعت بھی تحریک انصاف پر یہودی لابی سے فنڈنگ پانے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں