لاہور: پسند کی شادی کرنے پر ایک اور بیٹی قتل

لاہور میں ایک شخص نے پسند کی شادی کرنے پر اپنی بیٹی، داماد اور ایک اور شخص کو ہلاک کرنے کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

یہ واقعہ لاہور کے مضافاتی علاقے کاہنہ کے پولیس سٹیشن کی حدود میں جمعے کی شب پیش آیا ہے۔

٭’قانون نہ بنا تو خواتین کو جلانے والے چھ ماہ میں باہر ہوں گے‘

٭پسند کی شادی پر بیٹی کو زندہ جلا دیا

کاہنہ پولیس سٹیشن کے اہلکار نے نامہ نگار صبا اعتزاز کو بتایا کہ کاہنہ کے علاقے عبدااللہ ٹاؤن کے رہائشی محمد اشرف نے اپنی نوجوان بیٹی صبا اور اس کے 42 سالہ شوہر کرامت کو گولیاں مار کر قتل کر دیا جبکہ مزاحمت کرنے پر ان کے خاندانی دوست کو بھی ہلاک کر دیاـ

واردات کے بعد محمد اشرف نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیاـ

اہلکار کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں مرنے والے تیسرے شخص کی شناخت اکرام کے نام سے ہوئی ہے، اور وہ مقتول داماد کا قریبی دوست تھا۔

کاہنہ پولیس تھانے میں تفتیشی اہلکار محمد کاظمی نے بتایا کہ ملزم اقبال جرم کر چکا ہے اور ابتدائی تحقیقات سے یہ لگ رہا ہے کے قتل غیرت کے نام پر کیس گیا تاہم مکمل تفتیش کے بعد ہی یقین سے کچھ بھی کہا سکتا ہے ـ

پولیس نے تینوں لاشیں قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہسپتال منتقل کر دی ہیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق واقعے کی ایف آئی ار محمد عثمان کی مدعیت میں درج کروائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل لاہور میں پسند کی شادی کرنے کے جرم میں ایک ماں نے اپنی 17 سالہ بیٹی زینت کو زندہ جلا دیا تھا۔

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ سال 2015 میں ملک بھر میں غیرت کے نام پر 11 سو خواتین کو ہلاک کیا گیا۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ غیرت کے نام قتل میں زیادہ اہم کردار قریبی رشتے دار ادا کرتے ہیں اور معافی نامے کی وجہ سے ملزم سزاؤں سے بچ جاتے ہیں۔

دوسری جانب ملک میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے واقعات میں اضافے پر یہ معاملہ پاکستان کے ایوانِ بالا میں اٹھایا گیا ہے۔

سینیٹ میں حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل اور جلائی جانے والی خواتین سے متعلق قانون پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا جائے۔

اسی بارے میں