پاناما پیپرز: حکومت کا نیا مسودہ قانون اپوزیش نے رد کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کرپشن کی تحقیقات کے لیے مجوزہ عدالتی کمیشن کے ضابطہ کار طے کرنے کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے حکومت نے جمعہ کو کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2016 کے نام سے ایک نیا مسودہ قانون رکھا جسے حزب اختلاف کی جماعتوں کے نمائندوں نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ یہ نیا مسودہ قانون 1956 کے انکوائری ایکٹ کا چربہ ہے جو کہ حزب اختلاف کے لیے کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ نئے مسودے قانون میں ستانوے اٹھانوے فیصد وہی شقیں شامل ہیں جو کہ 1956 کے انکوائری ایکٹ میں شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پاناما پیپرز کے انکشافات اور شریف خاندان کے افراد کے بیانات میں تضادات سامنے آنے کے بعد اپوزیش نے پر زور احتجاج پر حکومت کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن بنانے پر تیار ہوئی تھی۔

اس کمیشن کے ٹی او آرز یا ضابطہ کار طے کرنے کے لیے سپیکر نیشنل اسمبلی نے ایک بارہ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی کو پندرہ دن میں ٹی او آر طے کرنے تھے لیکن دو ہفتوں سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کی وجہ سے اس کام میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

حزب اختلاف نے ابتدا ہی میں اس کمیٹی کے سامنے پندرہ نکات پر مشتمل ٹی او آر یا ضابطہ کار رکھ دیے تھے جنہیں حکومتی ٹیم نے یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ صرف وزیر اعظم نواز شریف کو ذہن میں رکھ کر بنائے گئے ہیں۔

چوہدری اعتزاز احسن نے اس کمیٹی کی اب تک کی پیش رفت کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی ’ڈید لاک‘ یا تعطل کا شکار ہے۔

انھوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مکھی پر مکھی مارنا چاہتی ہے۔

حزب اختلاف کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے چوہدری اعتزاز نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاناما پیپرز کے لیے خصوصی طور پر قانون بنایا جائے وہ بین الاقوامی سرحدوں سے آر پار خفیہ طریقے سے سرمائے کی ترسیل کے جرم کی پکڑ کرے۔

ان کے بقول حکومت اس میں بینک فراڈ، رشوت ستانی، بینک کے قرضوں اور دیگر وائٹ کالر جرائم کو بھی شامل کرکے تمام عمل ہی کو طول دینا چاہتی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ تین رکن عدالتی کمیشن کس طرح ان تمام جرائم کی تحقیقات کر سکتا ہے۔

مذاکرات کے جاری رکھنے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ حزب اختلاف پارلیمانی کمیٹی میں بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ انھوں نے کہا کہ وہ یہ تاثر دینا نہیں چاہتے کہ حزب اختلاف بات چیت کے ذریعے مسئلہ کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔

پیپلز پارٹی کے تحریک انصاف کے ساتھ سڑکوں پر آنے کے امکان کے بارے میں انھوں نے کہا کہ کسی بھی چیز کو سیاست میں رد نہیں کیا جا سکتا۔

مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں پیپلز پارٹی کے آئندہ کے لائحہ عمل پر انھوں نے کہا کہ وہ کسی قسم کی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے۔

اسی بارے میں