تھیٹر ویران، پارلیمان آباد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فلم اور ٹی وی کی آمد سے پہلے تفریح کے متلاشی لوگ باگ نوٹنکی اور ڈرامے سے دل بہلانے کے لیے تھیٹروں کا رخ کرتے تھے۔ لاہور سنجیدہ اور غیر سنجیدہ تھیٹر اور جگت بازی کا مرکز سمجھا جاتا تھا لہذا شائقین کی بڑی تعداد آس پاس کے شہروں سے لاہور آتی تھی۔

مگر یہ رونقیں کچھ عرصہ سے اس لیے پھیکی پڑ رہی ہیں کیونکہ سنسر بورڈ اور لاہوری انتظامیہ اسٹیج پر زومعنی و ناشائستہ زبان کی حوصلہ شکنی کے لیے خاصی متحرک ہے اور اس حوالے سے بعض فنکاروں پر کچھ عرصہ کہ لیے پابندی بھی لگائی اور اٹھائی جاتی رہتی ہے۔

چنانچہ تنگ آ کر بہت سے فنکاروں نے نجی ٹی وی چینلوں کا رخ کیا جہاں وہ بظاہر سنجیدہ موضوعات پر ہونے والے پروگراموں میں مزاح اور فقرے بازی کا تڑکا لگانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

نجی ٹی وی چینلوں کی انتظامیہ ان پروگراموں میں ناظرین کی دلچسپی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ایسی شخصیت کو بھی تبرکاً شامل کر لیتی ہے جو موضوع کی سنجیدگی کو برقرار رکھنے کی اپنی سی ( ناکام ) کوشش کرتی رہتی ہے۔

اور اب حالات یہ ہیں کہ تھیٹر کی کمی پارلیمنٹ میں پوری ہو رہی ہے۔اسی لیے پارلیمنٹ کی گیلری جگت کے پیاسے مہمانوں سے کھچاکھچ بھری رہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پارلیمانی فن کاروں میں جن کی ریٹنگ اس وقت سب سے زیادہ ہے ان میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھی گذشتہ برس سے شامل ہو گئے ہیں جب اُنھوں نے تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے دھرنا ختم کرنے کے بعد پہلی بار ایوان میں واپسی پر ’کچھ شرم کرو کچھ حیا کرو‘ سے استقبال کیا تھا۔

اس کے بعد پانامہ لیکس سکینڈل کے معاملے پر عمران خان کو وفاقی وزیر دفاع کی طرف سے ’میسنا‘ بھی قرار دیا گیا۔

خواجہ آصف کی طرف سے پارلیمان میں ’ٹریکٹر ٹرالی‘ کے الفاظ جس پر پاکستان تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری کو شدید اعتراض ہے اور ان کے بقول یہ الفاظ ان کے بارے میں کہے گئے ہیں۔ جس پر انھوں نے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ خواجہ آصف ان کا نام لے کر معافی مانگیں۔ تاہم خواجہ آصف نے کہا ہے یہ الفاظ انھوں نے شیریں مزاری کے لیے استعمال نہیں کیے۔

اگرچہ اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج پر قومی اسمبلی کے سپیکر نے ان الفاظ کو کارروائی سے حذف تو کروا دیا لیکن ان کی گونج جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں بھی سنائی دی۔

حزب مخالف کی جماعتیں قومی اسمبلی کے سپیکر کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں کہ اگر وہ بروقت کارروائی کرتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔

حکمراں اتحاد میں شامل مولانا فضل الرحمن بھی اپنی تقریر کے دوران ایسی فقرے کستے ہیں کہ ایوان اور مہمانوں کی گیلری میں موجود افراد لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ حزب مخالف کی صفوں میں شیخ رشید اور جمشید دستی بھی موجود ہیں جن کی پرفارمنس کبھی بھی تھیٹر کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس دوران قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران ارکان کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ کورم بہت مشکل سے پورا ہوتا ہے اور ہو بھی جائے تو ایوان کا وقت کبھی غیر ضروری معاملات و نکات نمٹانے پر ضائع ہو جاتا ہے۔

جس طرح مختلف نجی ٹی وی چینلز پر حالات حاضرہ کے پروگراموں میں پرفارمنس کے سبب تھیٹر فنکاروں نے اپنے ریٹ بڑھا لیے ہیں اسی طرح بعض مبصرین کہتے ہیں کہ ارکان پارلیمنٹ نےبھی کہیں انھیں سے متاثر ہو کر اپنی تنخواہوں میں تین سو فیصد اضافہ تو نہیں کیا؟

اسی بارے میں