’حکومت کو مغربی روٹ میں کوئی دلچسپی نہیں‘

پاکستانی سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے مطابق مرکزی حکومت کو پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سیاسی جماعتیں پہلے بھی کئی بار اس خدشے کا اظہار کر چکی ہیں کہ مرکزی حکومت مغربی روٹ پر مشرقی روٹ کو ہی ترجیح دے رہی ہے۔

* ’اقتصادی راہداری وفاق، صوبوں میں مضبوط تعلق کی ضامن‘

* اقتصادی راہداری کے خلاف سازشوں سے آگاہ ہیں: آرمی چیف

پاکستانی سینیٹ میں پاک چین اقتصادی راہداری کے لیے سٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ سینیٹ کے اگلے اجلاس میں یہ رپورٹ پیش کریں گے کہ پاکستان کی مرکزی حکومت کو مغربی روٹ میں نہ کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی اس روٹ پر اب تک کسی کام کا آغاز ہوا ہے۔

اس کمیٹی کے رکن اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کمیٹی کے پچھلے اجلاس میں کمیٹی کے تمام اراکین نے متفقہ طور پر کمیٹی کے چیئرمین تاج حیدر کی سربراہی میں یہ فیصلہ کیا کہ عیدالفطر کے بعد سینیٹ کی اگلی نشست میں یہ رپورٹ پیش کی جائے گی کہ مرکزی حکومت مغربی روٹ کو بنانا ہی نہیں چاہتی۔

اس سے پہلے رواں سال کے آغاز میں وزیر اعظم نوازشریف نے بلوچستان کے ضلع ژوب میں ایک سڑک کا افتتاح کیا اور اس کو چائنا پاکستان اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کا نام دیا۔

اس افتتاح میں شریک اکثر سیاسی رہنما اب اس افتتاح کو پاک چائنا اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ نہیں بلکہ محض ایک سڑک کی افتتاح قرار دے رہے ہیں جو ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے فنڈ سے بنائی جائے گی اور بقول ان کے وزیراعظم نے غلط بیانی سے کام لیا۔

ادھر صوبہ خیبر پختونخوا میں ’پختونخوا اولسی تحریک‘ (عوامی تحریک) کے نام سے ایک تحریک چل رہی ہے جس کا مقصد پاکستان کی مرکزی حکومت پر دباو ڈالنا ہے تاکہ وہ مشرقی روٹ کی بجائے مغربی روٹ کو ترجیح دے۔

تحریک کے سربراہ ڈاکٹر سید عالم مسعود کے مطابق گذشتہ اور رواں سال کے بجٹ اور پلاننگ کمیشن کے اپنے ہی نقشوں سے اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان کی مرکزی حکومت بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کی بجائے سارا فائدہ صرف اور صرف پنجاب کو دینے جا رہی ہے اور مغربی روٹ کی بجائے مشرقی روٹ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

پاکستانی سینیٹ کے سٹیڈنگ کمیٹی برائے مواصلات کے چئیرمین داود خان اچکزئی کی سربراہی میں سینیٹ کی ایک کمیٹی نے حال ہی میں مغربی روٹ کا دورہ کیا تھا۔

داود اچکزئی کے مطابق مغربی روٹ پر سڑک کا کوئی نام ونشان ہی نہیں تھا۔

یاد رہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری 46 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے، تاہم بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی اکثر سیاسی جماعتیں اس منصوبے کو چین پنجاب اقتصادی راہداری کا نام دے رہی ہیں۔

ان جماعتوں کے بقول اس منصوبے میں بھی پسماندہ صوبوں کے لیے کچھ نہیں۔

دوسری جانب حکومت پاکستان ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اس منصوبے سے تمام صوبوں کو یکساں فائدہ ہو گا۔

اسی بارے میں