سینئیر صحافی محمود زمان کو سپردخاک کر دیاگیا

سینئیر صحافی اور انگریزی اخبار ڈان کے سابق سٹی ایڈیٹر محمود زمان کو سنیچر کے روز مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔

محمود زمان مختصر علالت کے بعد نو جون کو راولپنڈی میں انتقال کرگئے تھے۔ ان کی عمر 72 برس تھی۔

محمود زمان صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ٹریڈ یونین لسٹ اور سیاح بھی تھے۔ انھوں نے ضیا آمریت کے خلاف جمہوریت کی بحالی اور آزادیِ صحافت کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔

روزنامہ مساوات سے کورٹ رپورٹر کی حیثیت سے محمود زمان نے شعبہ صحافت میں قدم رکھا، تاہم مساوات کی بندش کے بعد ہفت روزہ ویو پوائنٹ، پھر نیوز ایجنسی پی پی آئی اور انگریزی روزنامہ مسلم کے بعد ڈان سے وابستہ ہوگئے۔ محمود زمان نے اپنی صحافتی زندگی کا بڑا حصہ روزنامہ ڈان میں گزرا۔

محمود زمان کو سیاست، فلم، آرٹ اور انسانی حقوق کے موضوعات سے خاص دلچپسی تھی، تاہم انھوں نے بطور سیاسی رپورٹر اپنا لوہا منوایا۔

سینئیر صحافی خاور نعیم ہاشمی محمود زمان کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ محمود زمان محنتی رپورٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شفیق اور ملنسار شخصیت کے مالک بھی تھے۔ محمود زمان تعلق نبھانا خوب جانتے تھے اور اسی وجہ سے اپنے ہم عصروں اور صحافت میں نئے آنے والوں میں یکساں مقبول تھے۔

خاور نعیم ہاشمی کے بقول محمود زمان ایک جنٹلمین تھے اور اسی وجہ سے کچھ لوگ ان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

صحافی سید ممتاز احمد کے مطابق محمود زمان کا شمار ان صحافیوں میں سے ہوتا تھا جس کی سیاستدانوں تک رسائی کوئی مسئلہ نہیں تھا بلکہ وہ بڑے آسانی سے متعلقہ خبر کے لیے سیاستدان تک رسائی حاصل کر لیتے تھے۔

سید ممتاز احمد کے بقول محمود زمان جمہوریت اور آزادیِ صحافت پر یقین رکھتے تھے اور اسی نے لیے انھوں نے ملک میں جمہوریت، آزادیِ صحافت اور صحافی کارکنوں کے حقوق کے لیے بڑا کام کیا۔

سابق فوجی صدر جنرل ضیا الحق کی آمریت کے دور میں دو مرتبہ جیل بھی گئے۔صحافتی تنظیموں کے سابق عہدیدار راجہ اورنگ زیب کے بقول محمود زمان نے صحافی تنظیموں کی مضبوطی اور صحافی کارکنوں کے حقوق کے لیے موثر انداز میں کردار ادا کیا۔

راجہ اورنگ زیب کے مطابق محمود زمان نے ملک کی صحافی تنظیموں کی جدوجہد کی تاریخ کو مرتب کرنے کے لیے بھی کام کیا۔

راجہ اورنگ زیب نے بتایا کہ محمود زمان نے صحافی تنظیم پی ایف او جے کے آئین کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی تجاویز پر تنظیم کے آئین میں ترامیم بھی کی گئیں۔

محمود زمان کوصحافت کے علاوہ سیاحت سے بہت لگاؤ تھا اور اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات سے ان کو جب بھی وقت ملتا تو وہ بطور سیاح دنیا کی سیر پر نکل پڑتے۔ وہ اپنے ساتھ سفر کرنے والوں کو ہمیشہ یہ نصیحت کرتے کہ جس ملک بھی جائیں وہاں زیادہ سفر پیدل کریں اور گاڑیوں کے کرائے پر کم سے کم پیسے خرچ کریں لیکن رات کو آرام کے لیے بہتر کمرے لیں تاکہ تمام دن کی تھکاوٹ اتر جائے اور اگلے روز کے لیے پھر سفر کے لیے تیار ہو سکیں۔

لاہور پریس کلب کی نئی عمارت کی تعمیر کے بعد کلب کے ارکان کی چھان بین کے لیے محمود زمان اور سعید آسی کو ذمہ داری دی گئی اور اس وقت پریس کلب کے صدر ثقلین امام کے بقول محمود زمان صاحب نے اس ذمہ داری کو بڑی ایمانداری اور غیر جابنداری سے انجام دیا۔

محمود زمان نے اپنے سوگواروں میں ایک بیٹا اور دو بیٹاں چھوڑی ہیں۔

سینیئر صحافی سعید آسی کا کہناہے کہ محمود زمان جیسے لوگ بار بار پیدا نہیں ہوتے ہیں۔ ان کی صحافت کی آزادی کے لیے خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

محمود زمان نے ’پنجاب میں انقلابی تحریکیں‘ کے عنوان سے پروفیسر ستیہ ایم رائے کی کتاب کا ترجمہ بھی کیا۔