’را کی کارروائیوں کے ثبوت اکٹھے کیے جارہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ انڈیا کو نیوکلیئر سپلائیرز گروپ (این ایس جی) میں شمولیت کے لیے کوئی استثنیٰ نہیں ملے گی

پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان میں انڈین خفیہ ایجنسی را کی کارروائیوں کے بارے میں ثبوت اکٹھے کیے جارہے ہیں اور مفصل معلومات پر مبنی دستاویز تیار کی جائیں گی۔

سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کے مطابق پیر کو سینیٹ کے اجلاس میں سرتاج عزیز کا کہنا تھا انڈیا پاکستان پر غیرریاستی عناصر کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ بلوچستان میں را کی مداخلت کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ انڈیا کو نیوکلیئر سپلائیرز گروپ (این ایس جی) میں شمولیت کے لیے کوئی استثنیٰ نہیں ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کئی ممالک پاکستان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا نتیجہ پاکستان کے حق میں ہی ہوگا۔

سینیٹ میں ایم کیو ایم کے سینیٹرمحمد عتیق شیخ کی جانب سے جمع کروائی گئی ایک تحریک التوا کے جواب میں انھوں نے کہا گوادر اور چابہار کو جڑواں بندگاہیں قرار دینے کے حوالے سے یاداشت کی دستاویز پر دستخط ہو گئے ہیں۔

سرتاج عزیز نے کہا ہے پاکستان ایران پر عائد پابندیاں اٹھنے کے بعد اس کے ساتھ تجارتی تعلقات میں فروغ کی کوشش کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چابہار اور گوادر کے درمیان ریلوے لائن بچھانے کی تجویز زیر غور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرتاج عزیز کا کہنا تھا گہرے پانی کی گوادر کی بندرگاہ کی اہمیت ایران کی چابہار بندرگاہ سے زیادہ ہے

سرتاج عزیز کا کہنا تھا خطے کو مزید بندرگاہوں کی ضرورت اور گوادر کی بندرگاہ کو چابہار سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چین اپنی دس فیصد تجارت یہاں منتقل کرتا ہے تو یہ مزید تیزی سے ترقی کرے گی۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا گہرے پانی کی گوادر کی بندرگاہ کی اہمیت ایران کی چابہار بندرگاہ سے زیادہ ہے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی پر توجہ دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے سہولیات فراہم کی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کئی سڑکوں کے منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پشاور سے جلال آباد اور چمن سے سپن بولدک تک ریلوے ٹریک کے منصوبے بھی زیرغور ہیں۔

اسی بارے میں