امریکہ ہمیشہ فوجی آمروں کا حامی رہا ہے: سرتاج عزیز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’پاکستان اور امریکہ کےتعلقات مختلف ادوار میں تبدیل ہوئے ہیں‘

پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ امریکہ کا پاکستان میں ہمیشہ فوج آمروں سے تعلق رہا ہے۔

یہ بات انھوں نے سوموار کو سینیٹ میں پاکستان کی خارجہ پالسی پر بریفینگ دیتے ہوئے کہی۔

انھوں نے امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتے تعلقات کے تناطر میں پاک امریکہ تعلقات سے متعلق کہا کہ ’پاکستان اور امریکہ کےتعلقات مختلف ادوار میں تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ جب کبھی بھی امریکہ کو ہماری ضرورت پڑی تب ہمارے ملک میں فوجی حکومتیں تھیں، امریکہ کا ہمیشہ پاکستان میں آمروں سے تعلق رہا ہے‘۔

انھوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ پاکستان خطے میں تنہا رہ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان تمام وسطی ایشائی مملک کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے۔

اس سلسلے میں سینیٹ چیرمین رضا ربانی نے کہا ’ہم ڈالروں کی تلاش میں اپنے قومی مفاد کو امریکہ کے سیکورٹی مفاد میں ڈبو دیتے ہیں‘ جس پر سرتاج عزیز کا کہنا تھا ’ہمیں اپنے قومی مفاد کا تحفظ کرنا ہے، ڈالروں کی تلاش نہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption جب امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی تب ملک میں ملٹری حکومت تھی

انھوں نے کہا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں خطے کی سٹرٹیجیک سیاست اہم ہے۔ بھارت کے امریکہ اور ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کا حوالہ دیتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا ’خطے کی بدلتی ہوئی سیاست میں جہاں امریکہ چین کو دبانے کی پالسی پر عمل پیرا ہے جس میں بھارت کا کردار اہم ہو سکتا ہے ، اس لیے ہمارا چین کے ساتھ تعلق بہت اہم ہے۔ وہ ہمارا اہم دوست اور ہمسایہ ملک ہے‘۔

بھارت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’خود بھارت میں تشویش پائی جا تی ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔بھارت کی یہ پالسی اچھی ہے یا نہیں، یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے‘۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی امریکی کانگرس میں تقریر کے بارے میں انھوں نے کہا ’یہ درست ہے کہ یہ تقریر پاکستان کے خلاف تھی لیکن ہم اس کا مقابلہ بہتر طریقہ سے کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کیا امریکہ اور بھارت کےبڑھتے ہوئے تعلقات چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں

انھوں نے مزید کہا ’انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالسی موثر ثابت ہو رہی ہے۔ بھارت غیر ریاستی عناصر کی شکایت کر رہا ہے ، ہم را ایجنٹس کی بلوجستان اور دیگر پاکستانی علاقوں میں سرگرمیوں پر مبنی ڈوزئیر پر کام کر رہے ہیں۔ جو کہ بہتر جوابی ردعمل ہے‘۔

نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کے معاملے پر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ’این ایس جی میں شامل ہونے کے قوائد و ضوابظ تمام ملکوں پر لاگو ہونے چاہیں۔ بھارت نے تیرہ مئی اور ہم نے اٹھارہ مئی کو اس میں شمولیت کی درخواست جمع کرائی ہے اور پاکستان اس کے حصول پر زور و شور سے کام کر رہا ہے‘۔

انھوں نے کہا اس سلسلے میں پاکستان نے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رکھی ہیں اور انہیں امید ہے اس مرتبہ بھارت یہ فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ MEA India
Image caption امریکی کانگرس میں نریندر مودی کی تقریر میں پاکستان کا ذکر بھی شامل تھا

بھارت ، افغانستان اور ایران کے درمیان چا بہار بندرگاہ کے معاہدے سے متعلق سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ گوادر او چا بہار دونوں اہم ہیں۔ انھوں نے کہا ’ ہم نے دونوں بندگاہوں میں رابطے کے لیےمعاہدے پر دستحظ کیے ہیں۔ بلکہ ہم نے دونوں بندگاہوں کے درمیان ٹرین کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ پاکستان گودار پر توجہ دے۔

انھوں نے کہا’حالیہ رپورٹس کے مطابق چین سترہ فیصد تیل کی تجارت گوادر کے ذریعے کرے گا۔ لیکن اگر چین صرف دس فیصد تجارت بھی گوادر بندگاہ سے کرتا ہے تو اس کا پاکستان کو بے پناہ فائدہ ہوگا‘۔

آج جب اجلاس شروع ہوا تو چیئر مین سینٹ نے ممبران کو بتایا کہ پولیس نے انہیں مطلع کیا ہے کہ ماروی سرمد کے خلاف مبینہ تشدد کے واقعہ میں سینٹر حافظ حمد اللہ کے خلاف تحقیقات شروع ہوگئی ہیں۔

اسی بارے میں