پاکستان میں ججز کا تحفظ بھی ایک مسئلہ ہے: چیف جسٹس

Image caption چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کو مختلف محاذوں پر جارحیت کا سامنا ہے

پاکستان کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ ملک کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہے اور ایسے میں غیر معمولی اقدامات ناگزیر ہیں۔

منگل کو فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے17 مجرموں کی طرف سے ان سزاوں کے خلاف دائر کی گئی اپیلیوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ ملک میں ایسے حالات ہیں جہاں پر ججز کو تحفظ دینا بھی ایک مسئلہ ہے۔

* پاکستان کا پھانسیاں دینے والے ممالک میں تیسرا نمبر

* ’موت کی سزاؤں پر عمل درآمد تشدد کی بقا کی وجہ ہے‘

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ ان درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ملک میں حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں بلکہ اس کو مختلف محاذوں پر جارحیت کا سامنا ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ راولپنڈی میں ایک جج کو قتل کردیا گیا جبکہ بیرون ممالک میں گواہوں کو تحفظ دینے کے لیے نہ صرف ان کو عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا اُن کی گواہی بھی پردے کے پیچھے سے لی جاتی ہے۔

ان درخواستوں میں چار مجرموں کی پیروی کرنے والے وکیل لطیف آفریدی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جن ممالک میں ججز اور گواہوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے وہاں پر انصاف کے تمام تقاضے بھی پورے کیے جاتے ہیں جبکہ ہمارے آئین میں منصفانہ ٹرائل کا ذکر ہونے کے باوجود ملزم کو انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کے موکلوں کو نہ تو وکیل کرنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی عدالتی ریکارڈ کی نقول فراہم کی گئیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ تمام مجرموں کو ٹرائل کورٹ میں وکیل کرنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن سب نے وکیل کی خدمات حاصل کرنے سے انکار کیا تھا۔

بینچ میں موجود جسٹس شیخ عظمت سعید نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا تمام افراد نے وکیل کرنے سے انکار کردیا جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ وہ ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ دیکھ کر اس بارے میں سپریم کورٹ کو آگاہ کریں گے۔

عدالت نے راولپنڈی میں پریڈ لین پر حملے کے مجرم محمد غوری اور بنوں جیل پر حملے کے مجرم محمد طاہر کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ ملک دشمن خفیہ ادارے کے لیے مخبری کرنے کے الزام میں سزا پانے والے مجرم الف خان کی اپیل مسترد کردی۔

اسی بارے میں