پاناما پیپرز: ٹی او آر کمیٹی تعطل کا شکار

Image caption حزب مخالف نے یہ اعلان نہیں کیا کہ اگر مستقبل میں اس کمیٹی کا اجلاس ہوتا ہے تو وہ اس میں شرکت نہیں کرے گی

پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے مجوزہ عدالتی کمیشن کے لیے ضوابط کار طے کرنے کے لیے حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کی نمائندہ 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی میں ڈیڈ لاک برقرار ہے اور منگل کے روز ہونے والے کمیٹی کے آٹھویں اجلاس میں بھی کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔

#ٹی او آر کس بلا کا انگریزی نام ہے؟ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ، موسی خان جلال زئی سے انٹرویو

کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اس اجلاس کی کارروائی کو صرف ایک جملے میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’زیرو بٹا زیرو پیش رف ہوئی ہے۔‘

یہ کہہ کر وہ پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کے چیمبر میں چلے گئے جہاں پر اس کمیٹی میں موجود حزب مخالف کی جماعتوں کے دیگر ارکان بھی موجود ہیں اور اس اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا رہا تھا۔

حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے اس کمیٹی میں شامل ایک رکن کا کہنا تھا کہ اجلاس میں مختلف امور پر ڈیڈ لاک برقرار رہا تو حکومتی نمائندوں نے حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان سے اگلے اجلاس کی تاریخ مقرر کرنے کو کہا جس پر حزب مخالف کی جماعتوں کا کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹی تاریخ پے تاریخ مانگ رہی ہے لیکن اس معاملے پر پیش رفت نہیں ہو رہی۔

حزب مخالف کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ حزب مخالف اس کمیٹی میں جتنی لچک کا مظاہرہ کرسکتی تھی وہ انھوں نے کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اب یہ جماعتیں اپنی قیادت سے بات کریں گی اور اُنھیں اعتماد میں لیں گی۔

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اتفاق رائے سے ضوابط کار طے کیے جائیں لیکن اس میں کسی کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف قوم سے اپنے خطابات میں اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کر چکے ہیں۔

اُنھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کا نام لیے بغیر کہا کہ دو جماعتوں کا ہدف وزیر اعظم کی ذات ہے جن کا نام پاناما لیکس میں نہیں ہے۔

حزب مخالف نے یہ اعلان نہیں کیا کہ اگر مستقبل میں اس کمیٹی کا اجلاس ہوتا ہے تو وہ اس میں شرکت نہیں کرے گی۔

حزب مخالف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے پاناما لیکس کے ضوابط کار طے کرنے کے لیےحکومت کی طرف سے پیش کیے چار نکات میں سے ساڑھے تین نکات کو تسلیم کرلیا ہے جبکہ حکومت اُن کی طرف سے دیے گئے پندرہ نکات کو تسلیم نہیں کر رہی۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پاناما لیکس کے معاملے پر کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کرے گی جبکہ پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کو اس معاملے پر ضوابط کار طے کرنے کے لیے عید تک کا وقت دیا ہے۔

پارٹی کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں اُن کی جماعت سڑکوں پر ہوگی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی وار پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ حزب مخالف کی دیگر جماعتیں ضوابط کار طے کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں کرسکتیں جس کی وجہ سے ان دونوں جماعتو ں کو کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں