نیب کو راجہ پرویز اشرف کے خلاف کارروائی سے روک دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لاہور ہائی کورٹ کے قومی احتساب بیوور یعنی نیب کو سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف کارروائی سے روک دیا اور نیب سے شق وار جواب طلب کر لیا ہے۔

ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے یہ احکامات راجہ پرویز اشرف کی درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد جاری کیے۔

راجہ پرویز اشرف نے بجلی فراہم کرنے کے اداروں میں غیر قانونی بھرتیوں کے الزامات میں نیب کے طلبی کے نوٹسز کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے اور اپنے وکلا افتخار شاہد اور جواد اشرف ایڈووکیٹس کے توسط سے درخواست کے ذریعے نیب کے طلبی کے نوٹسز کو چیلنج کیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمود مقبول باجوہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواست پر ابتدائی سماعت کی۔ راجہ پرویز اشرف سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں بجلی اور پانی کے وزیر رہے ہیں۔

سماعت کے دوران راجہ پرویز اشرف کے وکلا نے بتایا کہ نیب نے پیپکو اور گیپکو میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے الزامات میں ان کے موکل کو طلبی کے نوٹسز بھجوائے ہیں۔

وکلا نے لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ کو آگاہ کیا کہ سابق وزیر اعظم نے الزامات کی نوعیت جاننے کے لیے نیب سے رجوع کیا لیکن نیب نے طلبی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا.

وکلا نے واضح کیا کہ راجہ پرویز اشرف کا وزیر پانی و بجلی کی حیثیت سے بھرتیوں میں کوئی عمل دخل نہیں رہا لیکن اس کے باوجود انہیں بے بیناد الزامات میں ملوث کیا جارہا ہے۔ وکلا نے الزام لگایا کہ راجہ پرویز اشرف کو سیاسی طور انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے نیب نے نوٹس جاری کئے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف کی جانب سے استدعا کی گئی کہ نیب کے جانب سے ان بھجوائے گئے نوٹسز کالعدم قرار دینے کے ساتھ نیب کو کو ہراساں کرنے سے روکا جائے۔

اسی بارے میں