طورخم سرحد پر فائر بندی کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فائرنگ شروع ہونے کے بعد دونوں طرف فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا تھا

طورخم سرحد پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا باعث بننے والی عمارت کے بارے میں پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ سرحد سے 37 میٹر اندر تعمیر کی جا رہی ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا جبکہ اسلام آباد میں افغان سفیر حضرت عمر زخیوال نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ تنازع جلد حل کر لیا جائے گا۔

حضرت عمر زخیوال نے اپنے فیس بک پیج پر بدھ کو ایک پیغام میں کہا کہ طورخم سرحد پر جلد فائر بندی ہو جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ طورخم کے حوالے سے ان کی پاکستانی حکام سے ہونے والی ملاقاتیں بہت موثر رہیں ہیں۔ ’ہم نے کئی اقدامات پر اتفاق کر لیا ہے جن میں فائر بندی، کشیدگی کو کم کرنے، دونوں طرف فوجیوں کی تعیناتی کو کم کرنے اور موجودہ مسائل کو حل کرنا شامل ہے۔‘

آپریشن ضرب عضب

4304

دو برس کے دوران مربع کلومیٹر علاقہ جو شدت پسندوں سے بازیاب کرایا گیا

  • 490 فوجی افسران اور اہلکار ہلاک

  • 3500 شدت پسند مارے گئے

  • 992 ٹھکانے تباہ کیے گئے

  • 253 ٹن بارودی مواد برآمد ہوا

دوسری طرف پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ پاکستان سرحد سے 37 میٹر اندر ایک عمارت تعمیر کی جا رہی ہے جس پر کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 2004 میں اس جگہ پر ایک گیٹ موجود تھا جسے جلال آباد تک سڑک کی تعمیر کی وجہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹینس فورس (ایساف) سرحد کے انتظام سے پوری طرح آگاہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ سرحد پر نظم قائم کرنا سب کے مفاد میں ہے اور وہ اس کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بارڈر کے انتظام کے بارے میں انھوں نے کہا کہ حکومت اور فوج مل کر فیصلے کر رہے ہیں۔

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ بارڈر کے انتظام کے بارے میں ’سینڈرڈ اوپریٹنگ پروسیجر‘ یا یکساں طریقہ کار تیار کر لیا گیا ہے اور افغانستان کے ساتھ اس پر جلد دستخط کر لیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ افغانستان کی طرف سے بلااشتعال فائرنگ کا معاملہ افغان حکومت کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھایا گیا ہے اور اس کا فوجی جواب بھی دیاگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بارڈر پر انتظام پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہے اور حظے میں امن قائم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لیے شدت پسند اسی راستے میں پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور ان کے پاس اس بارے میں بہت سے ثبوت موجود ہیں۔

باڑا بیر کے فضائی اڈے پر حملے میں ملوث 14 شدت پسند افغانستان سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوئے اور واردات سے پہلے اسی علاقے میں کئی دن تک چھپے رہے۔

افغانستان سے طورخم کے علاقے میں ہونے والی فائرنگ پر انھوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے اس کا مناسب جواب دیا ہے۔ اب تک ہونے والی جانی نقصان کے بارے میں انھوں نے کہا کہ پاکستان فوج کے ایک میجر علی جواد ہلاک ہوئے جبکہ انیس جوان زخمی ہوئے۔

اسی بارے میں