شمالی و جنوبی وزیرستان میں شدت پسندی

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان شدت پسندوں کے مرکز رہے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں جہاں پانچ برس قبل آپریشن راہِ نجات کیا گیا وہیں جون سنہ 2014 میں شروع کیے جانے والے پاکستانی فوج کے آپریشن ضربِ عضب کا مرکزی ہدف قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے شدت پسندوں کا صفایا تھا۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان میں شدت پسندی کے حوالے سے اہم علاقوں کے بارے میں بی بی سی اردو کا کلک ایبل نقشہ۔ کسی بھی علاقے کے بارے میں معلومات کے لیے اس کے نام پر کلک کریں۔

کلک ایبل
  • شمالی و جنوبی وزیرستان

    ×
  • دتہ خیل

    ×

    دتہ خیل افغانستان کے مشرقی صوبے خوست کے ساتھ شمالی وزیرستان کا ایک قصبہ ہے۔ اس چھوٹی سی تحصیل کو بھی مسلسل ڈرون حملوں کی وجہ سے عالمی شہرت ملی۔

    تحصیل دتہ خیل کی آبادی شمالی وزیرستان کی نو تحصیلوں میں تیسرے نمبر پر ہے اور اس تحصیل کے اکثر علاقے افغان سرحد کے قریب واقع ہیں۔ ان میں بویا، محمد خیل، سیدآباد، مداخیل، خدر خیل، منظرخیل، پائی خیل اور انزرکس شامل ہیں۔

    افغانستان میں روس کے خلاف مسلح جہدوجہد کے دوران دتہ خیل تحصیل کو خصوصی اہمیت حاصل رہی اور اس علاقے کو مجاہدین روس کے خلاف جنگ میں اپنے مضبوط ٹھکانے کے طورپر استعمال کرتے تھے۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد زیادہ تر مُلکی اور غیر مُلکی جنگجوؤں نے جنوبی و شمالی وزیرستان کا رُخ کیا تھا۔ پہلے پہل وزیرستان آنے والے ان جنگجوؤں نے عام شہریوں کے ساتھ رہائش اختیار کی مگر جب پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تو طالبان جنگجوؤں نے اپنے ٹھکانے دتہ خیل جیسے بلند پہاڑی سلسلوں اور گھنے جنگلات میں قائم کیے۔

    صرف دتہ خیل کے علاقے میں 2004 سے اب تک پچاس ڈرون حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں غیر مُلکی عرب مقامی طالبان، پنجابی طالبان کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔

    لاہور سے اغوا ہونے والے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر نے بھی کہا تھا کہ انھیں فروری 2015 تک دتہ خیل میں رکھا گیا تھا۔

  • میرعلی

    ×

    شمالی وزیرستان کے داخلی راستے پر واقع میر علی اس قبائلی ایجنسی کے صدر مقام میران شاہ کے بعد دوسرا بڑا قصبہ ہے۔ یہاں بھی داوڑ اور وزیر قبائل آباد ہیں۔

    یہ نہ صرف بنوں کے راستے ایجنسی میں داخلے کا راستہ ہے بلکہ یہیں سے جنوبی وزیرستان کو ملانے والا ایک اہم راستہ بھی شروع ہوتا ہے۔

    سنہ 2001 کے بعد یہاں بھی صورتحال کافی کشیدہ رہی۔ کبھی شدت پسندوں تو کبھی حکومت کا پلڑا بھاری رہا۔ اکتوبر 2002 میں ایک شدید لڑائی میں پاکستانی فوج کے مطابق یہاں دو سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    اسی قصبے میں پاکستانی طالبان کا آڈیو ویڈیو مرکز عمر سٹوڈیو بھی ضرب عضب کے آغاز سے پہلے یعنی 2014 تک قائم تھا۔

    بی بی سی کو اس علاقے کے دورے میں یہاں غیر ملکی ازبک جنگجو بھی دکھائی دیے تھے۔

    ضرب عضب کے دوران لڑائی میں یہاں کا مرکزی بازار مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔

  • میران شاہ

    ×

    شمالی وزیرستان کا انتظامی صدر مقام جو دریائے ٹوچی کے کنارے واقع ہے۔ یہاں داوڑ اور وزیر قبائل آباد ہیں۔

    ویسے تو یہاں پاکستانی طالبان کے مختلف گروپس مختلف اوقات میں رہے ہیں لیکن اسے حقانی نیٹ ورک کے مرکز کے طور پر بھی جانا جاتا رہا ہے۔ طالبان رہنما جلال الدین اور سراج الدین حقانی اکثر یہیں دیکھے گئے ہیں۔

    ان کے علاوہ درجنوں دیگر شدت پسند گروپس بھی یہاں مقیم رہے جن میں حافظ گل بہادر گروپ، کالعدم تحریک طالبان پاکستان، اسلامک مومنٹ آف ازبکستان، اسلامک جہاد گروپ، عصمت معاویہ گروپ، پنجابی طالبان اور ابو عکاشہ عراقی گروپ شامل ہیں۔

    2004 سے 2016 تک یہاں تقریباً دو درجن کے قریب ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں درجنوں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    جولائی 2014 میں بی بی سی کی ٹیم کے ایک دورے کے دوران میران شاہ سے افغان طالبان کے ایک مرکز سے کئی دستاویزات ملی تھیں۔

    ضرب عضب کے آغاز کے بعد اس شہر کے مرکزی بازار کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ یہیں دھماکہ خیز مواد کی فروخت کی دکانیں موجود تھیں جنہیں فوج نے’آئی ای ڈی بازار‘ کا نام دیا تھا۔

  • شوال

    ×

    یہ عسکری اعتبار سے سب سے مشکل پہاڑی علاقہ ہے جو شمالی و جنوبی وزیرستان کی مشترکہ سرحد پر واقع ہے۔ اس علاقے میں زیادہ تر وزیر قبائل کے لوگ آباد ہیں۔

    گھنے جنگلات اسے شدت پسندوں کی مناسب پناہ گاہ بناتے ہیں۔ جغرافیے کے علاوہ یہاں کا سرد موسم بھی اسے مزید مشکل بناتا ہے اسی لیے شاید اسے عسکریت پسندوں سے خالی کروانے میں پاکستان فوج کو سب سے زیادہ وقت لگا۔

    یہاں آباد قبائلیوں کی تعداد 15 ہزار بتائی جاتی ہے لیکن ضرب عضب کی وجہ سے یہ تمام علاقہ مکینوں سے خالی کروایا گیا۔

    فوج کا اس علاقے کی تلاشی کے دوران افغانستان سے چھینی گئی ایک امریکی ہموی گاڑی بھی ملی جس پر ملا سنگین لکھا ہوا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں سرگرم طالبان بھی یہاں پناہ لیتے رہے ہیں۔

    اس علاقے میں خان سجنا اور شہریار محسود گروپوں نے اپنا اڈہ بنایا ہوا تھا۔

    فوجی کارروائی سے قبل ایک اندازے کے مطابق اس وادی میں تقریباً دو ہزار شدت پسند موجود تھے۔

    فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یہاں120 شدت پسند ہلاک کیے جبکہ اس کے چھ اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

    ایک اندازے کے مطابق اس علاقے میں 2004 سے لے کر اب تک 34 ڈرون حملے ہوچکے ہیں۔

  • مکین

    ×

    جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں سب سے زیادہ تباہی مکین میں ہوئی ہے۔ یہ علاقہ بھی ہری بھری وادیوں اور جنگلات پر مشتمل دلکش خطہ مانا جاتا ہے۔

    فوج اسے طالبان کا ہیڈکواٹر قرار دیتی رہی ہے۔ مقامی صحافیوں کے بقول سکیورٹی فورسز نے یہاں ایک دن میں پانچ ہزار دکانیں مسمار کر دی تھیں۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان کے امیر بیت اللہ محسود کا مکان بھی کارروائی کے دوران گرایا گیا تھا۔

    سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے سنہ 2007ء میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل سے متعلق تحقیقات کی معلومات ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا جس کے مطابق یہ قتل القاعدہ کے رکن بیت اللہ محسود اور ابو عبیدہ المصری کی سازش کا نتیجہ تھا جو مکین میں تیار کی گئی تھی۔

    یہاں بھی 2004 کے بعد سے پانچ ڈرون حملے ہوچکے ہیں۔ اس کے علاقے زنگڑہ میں ستمبر 2011 میں ایک امریکی ڈرون فنی خرابی کے باعث گرا بھی تھا۔

  • کانی گرم

    ×

    کانی گرم برکی قبائلی کا مرکز تھا لیکن اب محسود قبائل زیادہ تعداد میں یہاں آباد ہیں۔ یہ یہاڑی علاقہ سطح سمندر سے تقریباً سات ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

    یہاں کے لوگ بہترین چاقو اور خنجر بنانے کے لیے مشہور ہے۔

    جنوبی وزیرستان میں ’آپریشن راہ نجات‘ کے دوران امریکا پر نائن الیون کے حملوں کے ایک مبینہ منصوبہ ساز، جرمن نژاد سعید بھاجی کا پاسپورٹ بھی یہاں سے برآمد ہوا تھا۔ سعید بھاجی کے پاسپورٹ پر ستمبر 2001 کے پہلے ہفتے میں کراچی آمد کی انٹری موجود تھی۔

    یہاں 2009 میں ہوئے ایک ڈرون حملے میں القاعدہ کے ابو سلمان الجزیری کی ہلاکت کی خبریں گرم رہی لیکن مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ مرنے والے مقامی لوگ ہی تھے۔

  • وانا

    ×

    جنوبی وزیرستان کے مغربی علاقے میں وانا کی وادی ماضی میں افغانستان میں روسیوں کے خلاف جہاں مجاہدین کا بڑا مرکز تھی اور اس مقام نے سنہ 2001 کے بعد بھی کافی لڑائی اور تباہی دیکھی۔ یہ علاقہ احمدزئی وزیر قبائل کا مسکن ہے۔

    شہر کے مغربی علاقے میں جو افغانستان کی سرحد انگور اڈہ تک پھیلا ہوا ہے سب سے زیادہ لڑائی اور تباہی دیکھی گئی۔ کلوشہ سے شروع ہونے والی پرتشدد کارروائیاں بعد میں اعظم ورسک اور سرحد کے ساتھ باغڑ تک پھیل گئیں۔

    شدت پسندی کی آمد کے بعد قبائلی علاقوں میں سب سے پہلے حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں میں نوجوان کمانڈر نیک محمد یہیں سامنے آئے۔ نیک محمد قبائلی علاقوں میں پہلے امریکی ڈرون حملے کا شکار ہوئے تھے اور بعد میں یہاں کے شدت پسند کمانڈر ملا نذیر کا بھی یہی انجام ہوا۔ ملا نذیر کی بڑی وجہ شہرت ان کی ازبک جنگجوؤں کو اعظم ورسک کے علاقے سے طاقت کے زور پر بےدخلی تھی۔

    وانا میں سات ڈرون حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر پورے جنوبی وزیرستان میں سی آئی اے کے ڈرون حملوں کی تعداد 96 ہے۔

  • سروکئی

    ×

    جنوبی وزیرستان میں درے محسود قبائل کا یہ علاقہ شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر علاقوں میں سے ایک ہے۔

    اس علاقے کے بارے میں کسی نے لکھا تھا کہ جب قدرت دنیا بنا رہی تھی تو بچا کھچا ملبہ اس نے یہاں پھینک دیا تھا۔

    وادیوں، پرپیچ راستوں اور دروں پر مشتمل اس خطے میں آپریشن ’راہ نجات‘ کے بعد لگ بھگ آٹھ لاکھ افراد اس علاقے سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ ان کی اکثریت قبائلی علاقوں سے ملحقہ اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور کوہاٹ میں مقیم رہی۔

    یہاں کے دیہات چگملائی، سپنکئی رغزئی، کوٹ کئی، سراروغہ اور احمد وام یہاں پر رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کی میڈیا میں کوریج کی وجہ سے جان پہچانے نام بن گئے ہیں۔

    شدت پسندوں نے یہاں سے گزرنے والی وانا روڈ پر پاکستان فوج کے قافلوں پر حملوں میں اسے شدید نقصانات پہنچائے تھے۔