’طالبان کے ڈر کا خاتمہ ضربِ عضب کی سب سے بڑی کامیابی‘

Image caption قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے بارے میں عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ تیزی سے کیا جانے والا کام نہیں

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ عوام کے ذہنوں سے طالبان کی کارروائیوں کا ڈر ختم کرنا شمالی وزیرستان میں دو سال سے جاری فوجی کارروائی ضرب عضب کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور لیفیٹننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے آپریشن ضربِ عضب کے دو برس کی تکمیل کے موقعے پر بی بی سی اردو کو دیے جانے والے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ’اس کارروائی کے نتیجے میں ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ذہنوں سے وہ فکر ختم ہوگئی ہے کہ ان کا عزیز گھر سے باہر جاتا ہے تو واپس لوٹے گا یا نہیں اور یہ ضرب عضب کی کامیابی ہے۔‘

اس سوال پر کہ اگرچہ پاکستان میں شدت پسندوں کے بڑے حملوں میں یقیناً کمی آئی ہے لیکن چھوٹے حملوں کے ذریعے کیا وہ دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چھوٹی موٹی وارداتیں اب بھی جاری رہیں گی لیکن لوگوں کے ذہنوں سے خوف ختم ہوگیا ہے۔

ضرب عضب کے بارے میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

آپریشن ضرب عضب

4304

دو برس کے دوران مربع کلومیٹر علاقہ جو شدت پسندوں سے بازیاب کرایا گیا

  • 490 فوجی افسران اور اہلکار ہلاک

  • 3500 شدت پسند مارے گئے

  • 992 ٹھکانے تباہ کیے گئے

  • 253 ٹن بارودی مواد برآمد ہوا

’قبائلی علاقوں میں امن بحال کر دیا گیا ہے۔ شدت پسندوں کو منتشر کر دیا گیا ہے۔ قبائلیوں نے بتا دیا ہے کہ وہ طالبان کے طرز زندگی کو مسترد کرتے ہیں اور آئندہ بھی اس کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ حکومت نے ان علاقوں کی بحالی کے لیے 100 ارب روپے کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ طالبان کو منتشر کرنا کیا اس مسئلے کا حتمی حل ہے، عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ’ایک دو کمانڈر تھے، وہ مارے گئے ہیں اور فضل اللہ بھی افغانستان میں روپوش ہے اور جلد مارا جائے گا۔ ہمسایہ ملک کی خودمختاری کا مسئلہ ہے، لیکن یہ معاملہ ہم نے امریکہ کے ساتھ بھی اٹھایا ہے۔‘

پاکستان میں افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ پاکستان سے تین لاکھ افغان پناہ گزینوں کی مکمل واپسی کے بعد اگر پاکستان پر اس طرح کا کوئی الزام عائد ہوا تو پھر دنیا جو چاہے، سزا دے۔

’ملا اختر منصور کو ہم نے نہیں پالا ہوا تھا، نہ حقانیوں کا ہم سے کوئی تعلق ہے۔ جب ضرب عضب شروع ہوا تو ہم نے ان کو مسترد کر دیا کہ ہمارے پاس کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘

Image caption عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ اب دنیا کی توجہ شام پر مرکوز ہے لیکن افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور بحالی پر کوئی توجہ نہیں ہے

’اپنے ملک جانا یہاں رہنے والے 30 لاکھ افغانوں کا حق ہے۔ وہاں جو کارروائی کریں وہ جانیں ان کا کام جانے۔ ہم ان کو نہیں روک سکتے۔ افغان فورسز بھی ان کو نہیں روک سکتیں۔ ان 30 لاکھ افغانوں کے ہر گھر میں جھانکنا کہ ان میں ملا منصور کون ہے اور فلاں کون ہے یہ مشکل کام ہے۔ یہ اخباروں میں کہنے کے لیے آسان ہے لیکن اس کا کرنا انتہائی مشکل ہے۔‘

وفاقی وزیر نے دنیا پر ان افغان پناہ گزینوں کو بُھلا دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اب دنیا کی توجہ شام پر مرکوز ہے لیکن افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور بحالی پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔

فاٹا اصلاحات

قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ ’یہ تیزی سے کیا جانے والا کام نہیں۔ اس کے وسیع اثرات ہوں گے اس لیے تمام نقطہ ہائے نظر اور طبقات سے تعلق رکھنے والوں سے مشورہ کر لیا گیا ہے۔ تجاویز کو تقریباً حتمی شکل بھی دے دی گئی ہے۔ دو نظریات سامنے آئے ہیں۔ پرانے قبائلی موجودہ نظام کو بحال رکھنا چاہتے ہیں جبکہ پڑھے لکھے صحافی، تاجر اور سماجی کارکن اسے ختم کر کے باقی ملک کی طرح تمام حقوق دیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہمیں ان دونوں کی تجاویز میں سے درمیانی راستہ نکالنا ہو گا۔‘

خیبر ایجنسی میں خیبر ون اور خیبر ٹو آپریشن

  • 2400 مربع کلومیٹر علاقے کو کلیئر کیا گیا

  • 108 فوج کے اہلکار ہلاک ہوئے

اس سوال پر کہ آیا اس سلسلے میں قائم کی گئی حکومتی کمیٹی کی سفارشات پر ریفرینڈم کروانے کی کوئی تجویز زیر غور ہے؟ وفاقی وزیر نے کہا کہ جو حل بھی سامنے آئے گا اس پر انھیں یقین ہے کہ قبائلیوں کی مکمل حمایت حاصل ہو گی۔

’سات ایجنسیاں ہیں، ہر کسی کا اپنا مفاد اور ترجیحات ہیں۔ کمیٹی کے لوگ غیرجانبدار ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ حتمی فیصلے کے لیے شاید لویا جرگہ کی ضرورت پڑے۔‘

انھوں نے بتایا کہ کمیٹی کی سفارشات ابھی وزیر اعظم، کابینہ اور پارلیمان کے سامنے رکھنا باقی ہیں اور ان کی منظوری لی جائے گی جس میں دو سے تین ماہ کا مزید وقت لگ سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ قبائلی علاقوں میں متنازع پولیٹکل نظام کے بارے میں کیا رائے سامنے آئی ہے، ان کا جواب تھا کہ فاٹا اصلاحات میں اس بارے میں بھی بہت کچھ موجود ہے۔ تاہم انھوں نے کمیٹی کی سفارشات بتانے سے انکار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے بھی منصوبہ بنایا گیا ہے کہ اس پر عمل درآمد کتنے وقت میں ہو گا اور اس کے لیے وسائل کہاں سے آئیں گے۔

اسی بارے میں