’فاٹا سے شدت پسندوں کا صفایا، توجہ سرحد پر‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی فوج کے ترجمان نے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے دو برس مکمل ہونے پر کہا ہے کہ یہ آپریشن ابھی ختم نہیں ہوا اور اس وقت قبائلی علاقوں کو شدت پسندوں سے صاف کرتے ہوئے افغان سرحد تک پہنچ چکے ہیں جہاں اب زیادہ توجہ بارڈر مینیجمنٹ پر ہو گئی تاکہ شدت پسندوں کو واپس نہ آنے دیا جائے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے راولپنڈی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن ضرب عضب شروع ہونے سے دو برس قبل شمالی وزیرستان میں موجود طالبان ریاست کے ساتھ برابری کی سطح پر فریق بننے اور ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور جنگ بندی کی باتیں کر رہے تھے۔

آپریشن ضرب عضب

4304

دو برس کے دوران مربع کلومیٹر علاقہ جو شدت پسندوں سے بازیاب کرایا گیا

  • 490 فوجی افسران اور اہلکار ہلاک

  • 3500 شدت پسند مارے گئے

  • 992 ٹھکانے تباہ کیے گئے

  • 253 ٹن بارودی مواد برآمد ہوا

انھوں نےشمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں سے تقریباً 4304 مربع کلومیٹر آزاد کرا لیا گیا ہے اور اس میں فوج کے 500 کے قریب افسروں اور جوانوں کی جانیں گئیں، جبکہ ساڑھے تین ہزار کے قریب شدت پسند مارے گئے۔

اس کے علاوہ شدت پسندوں کے 992 ٹھکانے تباہ کیے گئے، 253 ٹن باردوی مواد برآمد ہوا اور 2800 کے قریب بارودی سرنگوں کو ناکارہ کیا گیا، جب کہ 35 ہزار کے قریب مارٹر بم اور راکٹ برآمد ہوئے۔

فوج کے ترجمان کے مطابق اس کے بعد جب شدت پسند افغانستان کے راستے بھاگ کر خیبر ایجنسی میں گئے تو وہاں ڈیڑھ ڈویژن فوج کی مدد سے خیبر ون اور خیبر ٹو کے نام سے آپریشن کیا گیا اور وہاں نو سو کے قریب شدت پسندوں کو بلافریق مارا گیا اور تقریباً 24 سو مربع کلومیٹر علاقے کو کلیئر کیا گیا۔

خیبر ایجنسی میں خیبر ون اور خیبر ٹو آپریشن

  • 2400 مربع کلومیٹر علاقے کو کلیئر کیا گیا

  • 108 فوج کے اہلکار ہلاک ہوئے

اس میں فورسز کے 108 اہلکار ہلاک ہوئے اور اس کے علاوہ فوج کے بے شمار افسران اور جوان زخمی ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ خیبر میں آپریشن کے بعد شمالی وزیرستان کے دشوار گزار علاقے وادی شوال کو بہت محنت، دقت اور مشکلات کے بعد شدت پسندی سے صاف کیا گیا اور اس علاقے سے شدت پسند سرحد پار کرتے تھے اور ہمیشہ پاکستان پر یہاں شدت پسندوں کی موجودگی کے حوالے سے دباؤ تھا جو اب ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا۔

فوج کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں اب بھی کچھ ایسے علاقے ہیں جن کو کلیئر کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے اور اسے ’گریڈ تھری کلیئرنس‘ کہا جاتا ہے جس میں کسی جگہ باردوی مواد زمین میں دبایا گیا ہو یہاں کسی جگہ پر سرنگ وغیرہ ہو تو اس کو بہت تفصیل سے کلئیر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

سرحدوں پر نگرانی اب بڑا چیلنج

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption شمالی وزیرستان میں ساڑھے تین ہزار شدت پسند مارے گئے

عاصم باجوہ نے کہا کہ ہم قبائلی علاقوں کو اس وقت شدت پسندوں سے کلیئر کرتے ہوئے افغان سرحد پر پہنچ گئے ہیں اور اب یہاں ہمارا چیلنج بارڈر مینیجمنٹ یا سرحدی انتظامات ہیں اور اس کے بارے میں فوج کے سربراہ نے بھی کہا ہے کہ ہماری اب زیادہ توجہ سرحدی انتظامات ہی پر زیادہ مرکوز ہو گی۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے چارسدہ یونیورسٹی اور بڈھ بیر میں فضائیہ کے اڈے پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں پر حملے کرنے والے شدت پسند طورخم سرحد سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے اور اسی وجہ سے اب سرحدی انتظامات کی زیادہ ضرورت ہے۔

’افغانستان کے ساتھ 2600 کلومیٹر طویل سرحد ہے جس میں صرف 1350 خیبر پختونخوا کے ساتھ جڑا ہے اور یہ کھلا بارڈر ہے جہاں پر صرف پہلے سے موجود آٹھ کراسنگ پوائنٹس ہیں جبکہ بے شمار ایسے کراسنگ پوائنٹس ہیں جہاں سے لوگ آزادی سے آ جا سکتے ہیں اور اب ان پر زیادہ توجہ ہو گی جس میں پہلے سے موجود آٹھ کراسنگ پوائٹنس کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے جبکہ دیگر علاقوں کے ایف سی اور نیم فوجی دستوں کے نئے ونگ بنائے جا رہے ہیں تاکہ بارڈر مینیجمنٹ اور میکنزم کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔‘

انھوں نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے 60 فیصد افراد واپس اپنے علاقوں میں جا چکے ہیں اور اب کیونکہ لوگ واپس اپنے علاقوں میں جا رہے ہیں تو یہ بڑا ضروری ہے کہ شدت پسندوں کو واپس ان علاقوں میں نہ آنے دیا جائے کیوں کہ ان کی آڑ میں سرحد پار کرنے والے شدت پسند واپس آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’اب افغان سرحد پر نگرانی کے نظام پر زیادہ توجہ ہو گی‘

پاک افغان سرحد طورخم پر کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب سرحدی کراسنگ پر تلاشی اور دستاویزات کی سختی سے چیکنگ کی جائے گی اور اسی مقصد کے تحت طورخم پر پاکستان کی حدود میں گیٹ نصب کرنے پر کام شروع کیا اور ایسا سول حکومت کے ساتھ مکمل مشاورت کے بعد کیا گیا۔

جنرل عاصم باجوہ نے افغان حکومت کی جانب سے پاکستان میں شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے تناظر میں کہا: ’بارڈر مینیجمنٹ کا طریقہ کار بنایا جا رہا ہے جو سب کے مفاد میں ہے کیونکہ آپ آئے روز سنتے رہتے ہیں کہ فلاں چیز وہاں (پاکستان) سے ہوئی اور یہاں آئے اور وہاں سے سرحد پار کی اور یہاں گھوم رہے ہیں اور ہم بھی آپ کو بتاتے ہیں کہ کس طرح لوگ وہاں سے سرحد پار کر کے یہاں کارروائی کرتے ہیں۔‘

پاکستان میں ٹارگٹڈ آپریشن

جنرل عاصم باجوہ نے ضرب عضب کے ساتھ ملک کے اندر شدت پسندوں کے سہولت کاروں اور مالی مدد دینے والوں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ پکڑے جانے والے دہشت گردوں سے تحقیقات کے نتیجے میں ملنے والی معلومات کی روشنی میں ملک بھر میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر 19 ہزار آپریشن کیے گئے اور اس کی وجہ سے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کے ساتھ گٹھ جوڑ اور نیٹ ورک توڑ دیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ملک میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے جانے والے آپریشنز کے بعد اب خیبر پختونخوا سے شدت پسندوں کے خلاف کومبنگ آپریشن شروع کیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرے کو ہر طرح سے ختم کر دیا جائے تاکہ نہ دہشت گردی رہ سکے اور نہ ہماری سرزمین کسی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال ہو سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس وقت ملک میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری ہے

جنرل عاصم باجوہ کے مطابق لاہور میں گلشن اقبال پارک میں بم دھماکے کے بعد انٹیلی جنس کی بنیاد پر صوبہ پنجاب میں 280 آپریشن کیے گئے اور جیسا کہ پہلے کہا گیا تھا کہ تمام آپریشن بلا تفریق کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں