غیرت کے نام پر بہن کو جلانے والے ملزم کا جسمانی ریمانڈ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لڑکی کے گھر والے اسے یہ سمجھا کر شوہر کے گھر سے واپس لائے تا کہ وہ باقاعدہ طور پر اس کی رخصتی کریں گے تاہم گھر واپس لا کر اسے آگ لگا دی گئی

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی عدالت نے غیرت کے نام پر اپنی بہن کو جلا کر ہلاک کرنے کے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

پسند کی شادی کرنے والی 17 سالہ زینت کی ہلاکت کا واقعہ چھ جون کو لاہور میں تھانہ فیکٹری ایریا کی حدود میں پیش آیا تھا۔

٭ لاہور میں پسند کی شادی پر’ماں نے بیٹی کو زندہ جلا دیا‘

٭ زینت کی زندگی بہت مشکل تھی

ملزم انیس وقوعہ کے دن سے مفرور تھا اور پولیس نے اسے منگل کو لاہور سے ہی اس کے رشتہ داروں کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔

ملزم نے اپنی گرفتاری کے بعد میڈیا کے سامنے یہ بیان دیا تھا کہ اس نے اپنی بہن زینت کو نہیں مارا اور نہ ہی آگ لگانے کے واقعے سے اس کا کوئی تعلق ہے۔

پولیس نے انیس کو بدھ کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا اور عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے اپنی ماں اور بہن کے ساتھ مل کر زینت کو جلا کر مار دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہور پولیس نے لڑکی کے شوہر احسن خان کی درخواست پر لڑکی کی ماں، بھائی اور دیگر رشتہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے

پولیس نے یہ بھی بتایا کہ لڑکی کے گھر والے اسے یہ سمجھا کر شوہر کے گھر سے واپس لائے تا کہ وہ باقاعدہ طور پر اس کی رخصتی کریں گے تاہم گھر واپس لا کر اسے آگ لگا دی گئی۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم انیس قتل کے وقوعہ کے بارے میں حقائق چھپا رہا ہے اس لیے اس سے تفتیش کی ضرورت ہے جس کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج نے پولیس کے پیش کردہ تمام ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا اور پولیس کی استدعا جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے انیس کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔

خصوصی عدالت کے جج نے پولیس کو ہدایت کی کہ جسمانی ریمانڈ کی معیاد ختم ہونے پر ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے اور ملزم سے کی جانے والی تفتیشی رپورٹ پیش کی جائے۔

خیال رہے کہ لاہور پولیس نے لڑکی کے شوہر حسن خان کی درخواست پر لڑکی کی ماں، بھائی اور دیگر رشتہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

مقتولہ زینت کی ماں پروین بی بی اور اس کا بہنوئی ظفر پہلے ہی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں اور انھیں 15 جون کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اسی بارے میں