خاتون نے شادی سے انکار پر نوجوان پر تیزاب پھینک دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے ملزمہ کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے اُنھیں گرفتار کر لیا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں ایک خاتون نے شادی کی پیشکش ٹھکرانے پر نوجوان پر تیزاب پھینک دیا جس سے وہ بری طرح جل گیا۔

ملتان کے نواحی علاقے کے تھانہ مخدوم رشید میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمہ مومل کی علاقے کے ایک نواجوان صداقت سے کچھ عرصہ سے دوستی تھی اور ملزمہ اس سے شادی کی خواہش مند تھی۔

پولیس اہلکار کے مطابق ملزمہ پہلے سے ہی شادی شدہ اور چار بچوں کی ماں ہے تاہم اس نے صداقت سے کہا تھا کہ اگر وہ اس سے شادی کرنے کی حامی بھرے تو وہ اپنے خاوند سے طلاق لے لے گی۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے ان دونوں کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا اور اس دوران صداقت کے والد نے اس کی شادی کسی اور جگہ بھی کر دی تاہم ملزمہ اس سے شادی کرنے پر بضد رہی۔

پولیس کے مطابق صداقت اس معاملے پر لیت ولعل سے کام لیتا رہا اور بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ملزمہ مومل نے صداقت کو رات گئے اپنے گھر بلایا اور اس کے جسم پر تیزاب پھینک دیا جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کہ بعد ملزمہ نے صداقت کے بھائی رفاقت کو ٹیلی فون کر کے بتایا کہ اس نے ’صداقت کو گھر بھیج دیا ہے لہذا اس کا خِیال رکھو۔‘

صداقت کے والد محمد صدیق نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ جب وہ اپنے بیٹے کو تلاش کرنے کے لیے نکلا تو وہ کپاس کے کھیت میں برہنہ حالت میں زخمی پڑا تھا جسے فوری طور پر نشتر ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں پر اس کی حالت تشویش ناک بیان کی جاتی ہے۔

پولیس نے ملزمہ کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے اُنھیں گرفتار کر لیا ہے۔

ملتان پولیس نے اس مقدمے کی تفتیش کے لیے ابھی تک کوئی افسر تعینات نہیں کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسر کی تعیناتی کے بعد ملزمہ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں تیزاب پھینکنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں لیکن بیشتر واقعات میں ان کا نشانہ خواتین ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں