’سرحدی نظام سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اتوار کی رات پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان سرحدی گیٹ کی تعمیر پر جھڑپوں کا آغاز ہوا تھا

پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق افغانستان کے ساتھ طورخم کے سرحدی معاملے پر بات چیت جاری ہے لیکن پاکستان سرحدی انتظام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تمام راستوں پر دروازے بنائے گا۔

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی کہا ہے کہ پاکستان سرحدی نظام پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا کیونکہ یہ ملک کی سلامتی کا معاملہ ہے۔

٭ طورخم سرحد پر فائر بندی کا امکان

٭ افغان سرحد پر تازہ جھڑپ میں دو پاکستانی اہلکار زخمی

٭ طورخم پر کشیدگی کی تصاویر

ادھر پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر زاخیلوال کا کہنا ہے کہ بدھ کو عسکری اور سول حکام سے ملاقاتوں میں طورخم میں سرحدی دروازے کی تعمیر بند کرنے پر اتفاق ہونے کے باوجود وہاں کام جاری ہے اور اگر صورتحال یہی رہی تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔

گذشتہ اتوار کی رات پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان سرحدی دروازے کی تعمیر پر جھڑپوں کا آغاز ہوا تھا جس میں اب تک ایک پاکستانی فوجی افسر اور ایک افغان فوجی ہلاک جبکہ متعدد سکیورٹی اہلکار اور شہری زخمی ہو چکے ہیں اور سرحد کی بندش کی وجہ سے تجارت سمیت ہر قسم کی نقل و حمل معطل ہے۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے سرحد پر سیز فائر کے بارے میں سوال پر کہا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی باقاعدہ جنگ نہیں ہے۔‘

گذشتہ روز پاکستان میں افغان سفیر ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ طورخم پر دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کے درمیان فائر بندی ہو چکی ہے۔ پاکستان کے عسکری ذرائع نے بپی جمعرات کو فائر بندی کی تصدیق کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور افغانستان میں طورخم بارڈر پر گذشتہ چند دنوں سے کشیدگی جاری ہے

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’سرحد پر چھوٹے موٹے مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان ہر قسم کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے مگر طورخم میں ہی نہیں بلکہ افغان سرحد پر آمدورفت کے دیگر مقامات پر بھی دروازے تعمیر کیے جائیں گے۔

نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پاکستان کے خلاف عموماً اور طورخم کے معاملے پر خصوصاً پر افغان عوام کو ’گمراہ‘ کیا گیا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ تاہم انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ایسا کون اور کس کی ایما پر کر رہا ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی سینیٹ میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سرحدی نظام سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ یہ پاکستان کی سلامتی کا معاملہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’افغانستان کے ساتھ ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ تقریباً 30 لاکھ افغان ہماری سر زمین پر رہ رہے ہیں۔ اب ان افغانیوں کو چلے جانا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان افغانوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو جو نقصان پہنچا ہے وہ اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کل 17 کراسنگ پوائنٹس ہیں جن میں سے 16 منظور شدہ ہیں اور نو بند ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کا کوئی جھگڑا نہیں۔ تقریباً 30 لاکھ افغانی ہماری سر زمین پر رہ رہے ہیں۔ اب انھیں واپس چلے جانا چاہیے

ادھر اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر عمر زاخیلوال نے پاکستانی حکام پر وعدہ خلافی کا الزام لگایا ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج اور دیگر حکام سے بدھ کو ہونے والی ملاقات میں یہ طے پایا تھا کہ سب سے پہلے طورخم پر سیز فائر ہوگا اور بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ بات چیت تک طورخم میں گیٹ کا تعمیراتی کام بند کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔

افغان سفیر کے مطابق انھوں نے جمعرات کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نہ صرف توقع کے برعکس کام بند نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان سے منسوب کر کے یہ خبر چلائی گئی ہے کہ طورخم پر دوبارہ کام کا آغاز ان سے ملاقات میں اتفاق کے بعد ہوا ہے۔

افغان سفیر کے مطابق وہ اس خبر کو رد کرتے ہیں اور اگر بات چیت کے ذریعے اس معاملے کو حل نہیں کیاگیا تو ان کا اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔

عمر زاخیلوال نے اپنے پیغام میں متنبہ کیا ہے کہ وہ اس بارے میں تمام تفصیل کو عام بھی کر سکتے ہیں جس کی ہر قسم کی ذمہ داری جنرل راحیل شریف پر ہوگی۔

اسی بارے میں