تناؤ طورخم سے نکل کر سوشل میڈیا پر آ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption افغانستان میں پاکستان مخالف مظاہرے کیے گئے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ چار دنوں سے طورخم سرحد پر جاری کشیدگی میں بالآخر کمی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں تاہم بظاہر لگ رہا ہے یہ تناؤ اب سرحد سے نکل سوشل میڈیا پر منتقل ہوگیا ہے جہاں اس کی شدت زیادہ نظر آ رہی ہے۔

گذشتہ چند دنوں سے جس طرح طورخم سرحد پر ہر دوسرے روز تناؤ میں اضافہ ہوتا رہا ایسا ہی منظر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی مسلسل دیکھا جا رہا ہے۔ گذشتہ روز سے دونوں ممالک کے نوجوان طبقے کی طرف سے فیس بک اور ٹوئٹر پر عجیب و غریب اور طرح طرح کے اشتعال انگیزی پر مبنی پیغامات شیئر کیے جا رہے ہیں جس میں ایک دوسرے کے ملکوں پر تنقید اور مداخلت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

کچھ افراد کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ افغانستان کی طرف سے سرحد پر فائرنگ مبینہ طور پر پاکستان کے ایک دشمن ملک کے ایما پر کی گئی ہے۔ صاحبزادہ سلیل جاوید نے فیس بک پر لکھا ہے کہ ’افغانستان کیوں پاکستانی افواج پر فائرنگ کر رہا ہے اور کسی کے کہنے پر شرارت کر رہا ہے۔‘

ایک اور شخص گران پشتون لکھتے ہیں کہ وہ طورخم سرحد کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے پشتونوں کو کوئی جدا نہیں کر سکتا۔

کچھ نوجوانوں کی طرف سے اس کشیدگی کے تناظر میں اپنے قومیتوں کے بارے میں بھی لکھا جا رہا ہے اور ان نوجوانوں میں اکثریت پاکستانیوں کی لگ رہی ہے۔ نیاز بین ملنگ نے لکھا ہے کہ ’میں یوسف زئی ہوں میرے آباؤ اجداد افغانستان سے خیبر پختونخوا آئے اور میں افغان ہوں اور ہمیشہ افغان رہوں گا۔ میں اپنا مذہب تبدیل کرسکتا ہوں لیکن قومیت نہیں۔‘

Image caption کچھ سینیئر صحافیوں کی طرف سے دونوں ممالک کے نوجوانوں پر زور دیا جارہا ہے کہ نفرت انگیز پیغامات پوسٹ نہ کریں

جاوید خان لکھتے ہیں کہ اس لڑائی کا سب سے زیادہ نقصان سرحد کے دونوں جانب آباد پشتونوں کو ہو رہا ہے لہذا دونوں کو متحد ہوکر حکومتوں پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ اس معاملے کو حل کیا جائے۔

کچھ سینیئر صحافیوں کی طرف سے دونوں ممالک کے نوجوانوں پر زور دیا جارہا ہے کہ فیس بک اور ٹوئٹر پر ایسے پیغامات پوسٹ نہ کیے جائیں جس سے نفرت پھیلتی ہو ورنہ آنے والے دنوں میں اس کے انتہائی خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

سینیئر صحافی اور مصنف عقیل یوسف زئی نے لکھا ہے کہ ’آپ کے دل میں دونوں طرف کے لوگوں کےلیے تھوڑا سا درد بھی ہے تو برائے مہربانی اشتعال انگیز الفاظ لکھنے سے پرہیز کریں کیونکہ اس موقع پر یہی سب سے بڑی خدمت ہے۔‘

یاد رہے کہ افغانستان کی مختلف حکومتوں نے ڈیورنڈ لائن سرحد کو ہمیشہ سے ایک تاریخی تناظر میں دیکھا ہے۔ افغانستان میں عوام کا ایک طبقہ ہمیشہ سے اس سرحد کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی کشیدگی مختلف ادوار میں سامنے آتی رہی ہے تاہم پچھلے چند سالوں کے دوران اس میں شدت آ گئی ہے۔ افغانستان کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ پاکستان نے تقریباً 24 کلومیٹر کے قریب ڈیورنڈ لائن کے مختلف مقامات پر ان کے علاقوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے سرحدی مقام انگور اڈہ اورمہمند ایجنسی کے چند مقامات کے بارے میں بھی افغانستان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان ان کے علاقے میں داخل ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان فوج نے انگور اڈہ چیک پوسٹ افغان حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد میں حکومت کی طرف سے اس کی تردید کی گئی تھی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ سرحدی تناؤ پر پاکستان اور افغانستان کی قوم پرست اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے جب بھی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی تو سیاسی جماعتیں بالخصوص پشتون قوم پرست جماعتیں کشیدگی کم کرنے کےلیے بیانات جاری کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں