’کارروائیاں بلاامتیاز نہ ہوتیں تو ایسی کامیابیاں نہ ملتیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کی مد میں امریکہ نے پاکستان کو گذشتہ تین برس کے دوران تین ارب ڈالر سے زیادہ ادا کیے ہیں

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے آپریشن ضربِ عضب کے تحت ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور اگر یہ کارروائیاں بلاامتیاز نہ ہوتیں تو ان کے وہ مثبت نتائج برآمد نہ ہوتے جو کہ ہوئے ہیں۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے یہ بات جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں امریکی سینیٹ سے پاکستان کے لیے 80 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری اور اسے جزوی طور پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے منسلک کیے جانے کے بارے میں سوال کے جواب میں کہی۔

٭ ’مشروط امداد کا مقصد پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے‘

امریکی سینیٹ نے منگل کو قومی دفاعی اخراجات کے جس نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن بل کی منظوری دے دی ہے اس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کے لیے 80 کروڑ ڈالر کے نئے مجوزہ فنڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اس فنڈ میں پاکستان کی امداد کو افغانستان میں جاری جنگ سے الگ کر دیا گیا ہے۔

’پاکستان سکیورٹی انہانسمنٹ آتھرائزیشن‘ نامی یہ فنڈ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے قائم کولیشن سپورٹ فنڈ کی مدت پوری ہونے کے بعد قائم کیا گیا ہے اور اس 80 کروڑ ڈالر میں سے30 کروڑ ڈالر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط ہوں گے۔

خیال رہے کہ ماضی میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مدد کے لیے کولیشن سپورٹ فنڈ سے رقم ادا کی جاتی رہی ہے اور اس مد میں امریکہ نے پاکستان کو گذشتہ تین برس کے دوران تین ارب ڈالر سے زیادہ ادا کیے ہیں۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے جو اقدامات کیے ہیں وہ کسی سے چھپے ہوئے نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی مسلح سروسز کی کمیٹی پہلے ہی اس فنڈ کی منظوری دے چکے ہیں

انھوں نے کہا دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور ضرب عضب کے تحت پاکستان نے بلاامتیاز ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لیا ہے۔

’اگر ہم نے یہ بلاامتیاز ایکشن نہیں لیا ہوتا تو پھر اس طرح کی کامیابیاں نہیں ملتیں۔‘

امریکہ نے حالیہ دنوں میں پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کے شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے کے لیے دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کچھ عرصے سے سردمہری کا بھی شکار ہیں اور 21 مئی کو پاکستانی علاقے میں امریکی ڈرون حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور کی ہلاکت کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کہہ چکے ہیں اس حملے سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں اعتماد کو نقصان پہنچا ہے۔

تعلقات میں بہتری کے لیے حال ہی میں اعلیٰ سطح کے امریکی وفد نے پاکستان کا دورہ بھی کیا اور پاکستان کی سویلین قیادت نے اس وفد کے ارکان پر واضح کیا تھا کہ ڈرون حملے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں پیدا ہونے والی سرد مہری ختم کرنے کی زیادہ تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

اسی بارے میں