شدت پسندی اور فوجی آپریشن سے تعلیم متاثر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین بچوں میں ایک بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہے۔ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے متاثرین بچیوں کو تعلیم دلوانے میں کم ہی دلچپسی لیتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے تعلق رکھنے والی طالبہ سحرش گل نے ایک غیر سرکاری تنظیم کی مدد سے ان بچوں اور بچیوں کو تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کی ہیں۔

بنوں کے لنک روڈ پر آباد خیموں کے درمیان ایک کچے مکان میں سکول قائم کیا گیا ہے۔ سڑک سے نیچے اترے تو کچے پکے راستوں سے ہوتے ہوئے درختوں میں گھرے ایک مکان کے قریب پہنچے جہاں ایک کمرے پر مشتمل سکول قائم کیا گیا ہے۔

اس سکول میں کوئی20 سے 25 طلبا اور طالبات تھیں جنھیں ایک خاتون بنیادی تعلیم دے رہی تھیں۔

خاتون سحرش گل بنوں شہر کی رہائشی ہیں اور وہ ان بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑکیاں تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں لیکن ان کے والدین بچوں کو تعلیم دلوانے کے حق میں نہیں ہیں۔ سحرش کے مطابق اکثر لڑکیوں کے والدین انھیں گھر کے کام کاج کے لیے ترغیب دیتے ہیں اس لیے ان کی تعلیم میں دلچسپی نہیں لیتے۔

سحرش گل نے بتایا کہ انھوں نے ابتدا میں بنوں کے مضافات میں سرکاری سطح پر قائم بکا خیل کیمپ میں ایک سکول قائم کیا جہاں بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ اس کیمپ میں پہلے بچے سکول نہیں آتے تھے لیکن ان کی کوششوں سے سکول میں بچے اور بچیوں کی تعداد 84 تک پہنچ گئی تھی۔

کچھ عرصہ وہاں تعلیم دی اور اس کے بعد وہ یہاں لنک روڈ پر خیمہ بستی میں بچوں اور بچوں کو تعلیم دے رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ متاثرہ والدین کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کو گھر سے سکول کے لیے روانہ کرتے ہیں لیکن لڑکے راستے میں کھیل کود میں مصروف ہو جاتے ہیں اور سکول نہیں آتے۔

اس خیمہ بستی میں سکول یکم مارچ سے قائم کیا گیا ہے اور سحرش گل کے مطابق اب بچے تعلیم میں دلچسپی لینے لگے ہیں اور یہاں انھیں ابتدائی تعلیم دی جا رہی ہے۔

سحرش گل میزبان علاقے سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو تعلیم فراہم کرنا ان کا شوق بھی ہے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ وزیرستان میں جاری فوجی کارروائیوں کی وجہ سے ان بچوں کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو سکتا ہے، اس لیے ان کے ادارے اور ان کی خواہش ہے کہ ان بچوں کی تعلیم جاری رہے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی وجہ سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور متاثرہ خاندانوں کے بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔

Image caption فوجی آپریشن کی وجہ سے لاکھوں افراد نقل مکانی سے بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے پہلے بھی نہ صرف پرائمری تعلیم بلکہ سیکنڈری اور اعلی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کا تعلیمی سلسلہ مستقل بنیادوں میں جاری نہیں تھا بلکہ آئے روز ان کے علاقوں میں حالات کی خرابی یا ڈرون حملوں کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند رہتے تھے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں۔

ان دو برسوں میں کچھ بچوں نے تو سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی تھی لیکن ایک بڑی تعداد اس تعلیم سے محروم رہی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے کیمپ اور خیمہ بستیاں شہر سے دور ویرانوں میں قائم کیے گئے ہیں اور اتنی دور سے وہ اپنے بچوں کو سکول کے لیے نہیں بھیج سکتے۔

شمالی وزیرستان ہی نہیں بلکہ دیگر قبائلی علاقوں میں بھی شدت پسندی اور فوجی آپریشن کے وجہ سے بڑی تعداد میں بچوں کا تعلیم متاثر ہوئی ہے۔

اسی بارے میں