مذاکرات کامیاب، فوجیوں کے تشدد کے خلاف ہڑتال ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیکورٹی فورسز نے خوازہ خیلہ بازار کو زبردستی بند کروا دیا تھا اور ریڑھی بانوں سمیت دیگر دکانداروں پر تشدد کیا اور کچھ کو گرفتار کرلیا جنھیں بعد میں چھوڑ دیاگیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی تحصیل خوارزہ خیلہ میں مقامی عمائدین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد دکانداروں نے ہڑتال ختم کر دی ہے۔

یہ شٹر ڈاؤن ہڑتال بدھ کو سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے عوام اور دکانداروں پر تشدد کے بعد احتجاجاً شروع کی گئی تھی۔

سکیورٹی فورسز کے تشدد کے خلاف تحصیل خوازہ خیلہ میں دوکانداروں نے بازار مکمل طور پر بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے دور دراز پہاڑی علاقوں سے خریداری کے لیے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

خوازہ خیلہ بازار کے صدر سجاد نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تنازعہ بجلی کی لوڈشیڈ نگ کے خلاف ٹیٹابٹ کے مقام پر احتجاجی مظاہرے کے دوران شروع ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ مظاہرے کے دوران مینگورہ کالام روڈ بھی بند کر دی گئی تھی اور اس دوران پاک فوج کے اہلکاروں نے مداخلت کی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو مشتعل مظاہرین اور فوجیوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی جس سے ایک سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوا۔

مقامی لوگوں کے مطابق بعدازاں سکیورٹی فورسز نے خوازہ خیلہ بازار کو زبردستی بند کروا دیا تھا اور ریڑھی بانوں سمیت دیگر دکانداروں پر تشدد کیا اور کچھ کو حراست میں بھی لیا گیا تاہم انھیں بعد میں چھوڑ دیا گیا۔

فوجیوں کی جانب سے کیے جانے والے تشدد اور گرفتاریوں پر خوازہ خیلہ بازار کے دکانداروں نے احتجاجاً تمام بازار بند کر دیا تھا۔

بعد ازاں ماحول کو سازگار بنانے اور بازار کھولنے کے لیے سول انتظامیہ، پاک آرمی کے اعلی حکام اور علاقے کے مشران کے درمیان مذاکرات ہوئے۔

علاقے کے مشران کو یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ جن سکیورٹی اہلکاروں نے عوام پر تشدد کیا تھا ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اس یقین دہانی پر دکانداروں نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

اسی بارے میں