ضربِ عضب: ایک کند تلوار؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے آرمی چیف کا کہنا ہے کہ 2016 کے آخر تک آپریشن ضربِ عضب کو مکمل کر لیا جائے گا

سننے میں آیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کہ تحت بنائی گئی فاٹا اصلاحات کمیٹی نے بھی مشورہ دیا ہے کہ قبائلی علاقوں کو پاکستان کا حصہ بنایا جائے اور ایف سی آر جیسے کالے قوانین کو ختم کیا جائے لیکن ماننا پڑے گا کہ یہ تجویز بھوسے میں سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہے۔

بھلا پاکستان جیسے ملک میں جہاں سرکاری بجٹ کا صرف 18 سے 20 فیصد حصہ سارے ملک کے لیے رہ جاتا ہے وہاں قبائلی علاقوں کو خاک ملے گا؟ ہماری سوچ تو قرضہ اتارنے اور دفاعی خرچہ پورا کرنے سے آگے نہیں جا سکتی۔

ویسے بھی فاٹا کو ملک میں شامل کرنے کا وعدہ تو پیپلز پارٹی کی گذشتہ حکومت نے بھی کیا تھا۔ گو کہ ایسا اقدام ہر طریقے سے اچھا ہے کہ کسی حکومت کو فاٹا کو نظر انداز کرنے کا بہانہ نہیں ملتا لیکن تشویش رہے گی کہ ان علاقوں کو خیبر پختونخوا کا حصہ کیوں کر بنائیں گے۔

یہ صرف کوئی لکیر کھینچنے یا مٹانے کی بات نہیں بلکہ ان علاقوں کو ترقی کی اس نہج پر لانے کی بات ہے جہاں وہ باقی ملک کا حصہ لگیں۔ یہی وہ فیصلہ تھا جو کہ اس بار فوجی آپریشن ضربِ عضب کرتے ہوئے سوچا گیا تھا یعنی کہ فوج کا کام قبائلی علاقے، خاص کر شمالی وزیرستان، کو شدت پسندوں اور دہشت گردوں سے خالی کروانا اور سیاسی حکومتوں کا کام وہاں ترقی کی بنیاد رکھنا تاکہ ظلم، تشدد، اور دہشتگردی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ صرف کوئی لکیر کھینچنے یا مٹانے کی بات نہیں بلکہ ان علاقوں کو ترقی کی اس نہج پر لانے کی بات ہے جہاں وہ باقی ملک کا حصہ لگیں

سوال یہ یہ ہے کہ 20 ارب روپے کا غیر ترقیاتی اور 19 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ جو کہ 17-2016 کے مالی سال میں مختص کیا گیا ہے اس سے یہ کام کیسے ہو گا؟

قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا کے انتظامی ڈھانچے میں لانا ایک محنت طلب کام ہے۔ مانا کہ حکومت کے پولیٹیکل ایجنٹ ڈپٹی کمشنر یا کمشنر بن جائیں گے لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔

معاملہ قانون کی عملداری، عدلیہ، تعلیم، صحت اور باقی انتظامی ڈھانچے کا ہے۔ ان علاقوں میں نہ ہی کوئی پروفیشنل کالج ہے نہ ہی کوئی یونیورسٹی۔ یہ وہ تمام کام ہیں جس کے لیے بہت رقم درکار ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب تک قبائلی علاقوں میں جنگ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔

سو جب پاکستان کے آرمی چیف کہتے ہیں کے 2016 کے آخر تک ضربِ عضب کو ختم کر دیا جائے گا تو خیال آتا ہے کہ کیا واقعی تب تک جنگ اور دہشتگردی دونوں ختم ہو جائیں گے؟

مت بھولیں کہ ان حالات میں جیسے ہی فوجی آپریشن ختم ہوا اور فوج روانہ ہوئی تو دہشتگرد پھر در آئیں گے۔ آخر سرحد کے پار افغانستان اور اندرون ملک آنے میں کتنی دیر لگتی ہے؟

Image caption فاٹا میں نہ ہی کوئی پروفیشنل کالج ہے نہ ہی کوئی یونیورسٹی۔

یہاں دو مسائل درپیش ہیں۔ ایک تو سول حکومت کا جو کہ سر سے لے کر پاؤں تک پانامہ لیکس میں ڈوبی ہوئی ہے دھیان فاٹا کی طرف مبذول کروانا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ اور اگر ہو بھی گیا تو وہ ایک آدھ سڑک بنانے کے علاوہ کیا کرے گی یا شاید فاٹا میں سڑکیں بنانے کے علاوہ نہ حکومت کی سوچ ہے نہ اس کا زور چلتا ہے۔

بھلے آرمی چیف جو بھی کہیں بات تو یہ ہے کہ آخر میں انُھی کی چلے گی بالکل اسی طرح جس طرح انھوں نے سوات میں چلائی ہے۔ وہاں بھی ایک ہی حل ملا یعنی کہ ایک چھاؤنی کی تعمیر۔

سوچنے کی بات ہے کہ کیا کسی کو اس کا ادراک ہے کہ ضرب عضب کا بنیادی ہدف کیا تھا اور ہم کیسے تعین کریں گے کہ ہم نے یہ پا لیا؟

2014 سے شروع ہوئے اس آپریشن میں سنا ہے کہ 3500 دہشت گرد مارے گئے لیکن اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کوئی غیرجانبدار ذرائع نہیں۔ اس آپریشن میں تو فوج اپنے ساتھ اپنے ہمدرد صحافی بھی نہیں لے کر گئی۔

ایسے حالات میں لوگوں کے پاس ایک سرکاری موقف کو ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا اس کے باوجود کہ دہشتگردوں کی جھلک بھی برابر نظر آتی ہے۔ تحریک طالبان کی نہ سہی تو افغان طالبان، کوئٹہ شوریٰ، لشکر جھنگوی کے دھڑے، اور مختلف دیوبندی اور اہل حدیث شدت پسند اور دہشتگرد۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان اور افغانستان کی افواج کی چپقلش بڑھتی نظر آتی ہے

یہ کیسے ممکن ہے کہ لاٹھی کو استعمال کیے بغیر سانپ مر جائے؟ اور پھر افغان فوج کے ساتھ چپقلش تو بڑھتی نظر آتی ہے۔ اگر طورخم کی سرحد کے واقعے کے بعد حالات نہیں سنبھلے تو دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف وقتاً فوقتاً فوج کشی کریں گے اور کوئی بعید نہیں کہ اپنے اپنے غیر ریاستی جنگجوؤں کو ایک دوسرے کے مقابل جنگ میں جھونک دیں جس سے انتشار اور دہشت زیادہ پھیلے گی۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ضرب عضب جیتنا اس وقت تک مشکل ہے جب تک تمام دہشتگردوں اور ان کے نظریاتی دوستوں اور ہمدردوں سے ریاست کا تعلق توڑا نہیں جاتا۔

آخر کہ ہم برے طالبان اور اچھے لشکر جھنگوی میں کیسے تمیز کریں گے یا اچھے جہادی کو برے والے سے مل جانے سے کیسے روکیں گے؟

مطلب یہ کہ امن کی کوئی صورت نہیں نکلے گی۔ مزید یہ کہ لوگ سیاسی حکومت کو ہی کوسیں گے اور فوج کے پاس اور کوئی حل نہیں ہو گا کہ شمالی وزیرستان میں بھی ایک چھاؤنی بنا دیں۔

لگتا ہے کہ ضرب عضب کا وار بھی کند تلوار کی طرح صرف قوم کا کندھا ہی شل کرے گا۔

اسی بارے میں