نصیرآباد میں جھڑپ، فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ضلع نصیر آباد اور اس سے متصل دوسرے علاقوں میں پہلے بھی بد امنی کے اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں ایک جھڑپ کے دوران فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق سینیچر کو ضلع میں ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے گوٹھ میرو اور گوٹھ گاجان میں شرپسندوں کی موجودگی پر ایف سی اورحساس اداروں نے مشترکہ کاروائی کی۔

ترجمان کا کہنا ہے اس کاروائی کے دوران شرپسندوں اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

ترجمان نے بتایا کہ اس کاروائی کے دوران تین شرپسندوں کو گرفتار کرکے ان سے اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

بلوچستان کے ضلع نصیر آباد اور اس سے متصل دوسرے علاقوں میں پہلے بھی بد امنی کے اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

گذشتہ روز نصیرآباد سے متصل صحبت پور میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں دو بچے ہلاک ہوئے تھے۔

صحبت پور میں پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ضلع کے علاقے گوٹھ عید محمد کے قریب نامعلوم افراد نے بارودی سرنگ بچھائی تھی۔ بارودی سرنگ اس وقت پھٹ گئی جب وہاں سے گزرنے والے ایک بچے اور بچی میں سے ایک کا پاؤں اس پر آگیا۔

بارودی سرنگ کے دھماکے کے باعث دونوں ہلاک ہوگئے۔

پولیس اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں 8سے 9سال کے درمیان تھیں۔

اسی بارے میں