وزیرستان کے صحافی ’سیلف سنسر شپ‘ پر مجبور

Image caption وزیرستان میں میڈیا کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی نے دوہرا نقصان کیا۔ متاثرین تک اہم معلومات بروقت نہیں پہنچ سکیں اور عوام وزیرستان کی صحیح صورتحال جاننے سے قاصر رہے

آن لائن اخبار ’وزیرستان ٹائمز‘ کے نوجوان قبائلی مدیر فاروق محسود کے لیے کسی بھی خبر میں توازن لانا سب سے بڑی مشکل ہے۔

جب سرکاری یا فوجی اہلکار اپنا موقف دینے میں طویل وقت لیتے ہیں یا پھر دیتے ہی نہیں تو ایسے حالات میں انھیں خبر کو روکے رکھنا یا اس کا ’ہلکا‘ موقف شائع کرنا پڑتا ہے۔ انھیں اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اکثر سیلف سینسرشپ کرنی پڑتی ہے۔

اگرچہ وہ خود قبائلی ہیں لیکن ان کے لیے اپنے علاقے وزیرستان میں سفر کرنا بھی اتنا ہی دشوار ہے۔

فاروق محسود کی کہانی قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے اکثر صحافیوں کی کہانی ہے۔

اگرچہ یہ قصہ شروع تو سنہ 2001 میں ہوا لیکن اس میں شدت دو سال پہلے اس وقت آئی جب شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف ضرب عضب کے نام سے کارروائی کا آغاز ہوا۔ اس کارروائی کا دائرہ اختیار آہستہ آہستہ اب ملک کے دیگر حصوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔

بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کہہ چکے ہیں کہ یہ آپریشن اپنے 99 فیصد اہداف حاصل کر چکا ہے۔ اس کارروائی کے دوران لاکھوں قبائلیوں کو بےگھر ہونا پڑا اور فوجیوں کو اپنی جانیں کھونی پڑیں ////لیکن جتنی قیمت میڈیا کو ادا کرنی پڑی اس کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔////

کچھ لوگوں کے خیال میں شاید میڈیا کو کنٹرول کرنا بھی اس آپریشن کا ایک اہم جزو ہے۔ اس حکمت عملی نے دوہرا نقصان کیا۔ متاثرین تک اہم معلومات بروقت نہیں پہنچ سکیں اور باقی عوام وزیرستان کے اندر کی صحیح صورتحال جاننے سے قاصر رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آج بھی وزیرستان میں میڈیا کا مکمل بلیک آؤٹ ہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ وہاں واپس لوٹنے والے قبائل کن مشکلات سے دوچار ہیں

قبائلی صحافی ’ہاتھ ہلکا‘ رکھنے کی وجہ سے قبائلیوں کی نظر میں یا تو حکومت یا پھر فوج کے ’ایجنٹ‘ قرار پاتے ہیں۔ انھیں اس الزام کا سامنا قبائلی عوام کی خراب حالت زار پر کھل کر رپورٹنگ نہ کر سکنے کی وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے۔ فاروق محسود کو بھی یہ باتیں اکثر سننے کو ملتی ہیں۔

قبائلی علاقوں سے عارضی بے گھر افراد کی مشکلات کی میڈیا میں مناسب کوریج نہ ہونے یا اس کے معیار سے متعلق کافی تنقید ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں توپوں کا رخ ٹی وی چینلز کی جانب زیادہ ہے۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے بھی سفری اجازت نہ ملنے کی وجہ سے اپنی رپورٹنگ کی روایات قائم نہیں رکھ پائے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں پیدا صورتحال سے وہاں کے صحافی بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ وہ بھی اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ انھوں نے ابتدا میں عارضی طور پر بنوں کو شمالی وزیرستان کا میڈیا مرکز بنایا مگر اب یہ مرکز بھی نہیں رہا ہے۔

ایسی صورتحال میں فوجی یا سرکاری اہلکار محض ’ کنٹرولڈ معلومات‘ کا تبادلہ کرتے ہیں۔ قبائلی علاقوں تک رسائی کا واحد حل فوج کے ساتھ اس کی اجازت سے سفر کرنا ہے۔

ایسے ہی ایک حالیہ دورے کے بعد ایک عالمی خبر رساں ادارے کی خبر دلچسپ تھی۔ خبر یہ تھی کہ سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں مکانات کی چھتیں ڈھا دیں تاکہ وہاں چھپے دہشت گردوں کو اوپر سے دیکھ سکیں۔ یہ ان مشکل حالات میں کیسی صحافت ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قبائلی علاقوں تک رسائی کا واحد حل فوج کے ساتھ اس کی اجازت سے سفر کرنا ہی ہے

قبائلی صحافیوں نے مقامی طور پر چند حل تلاش کیے ہیں۔ ایک صحافی نے بتایا کہ ایک حل ’زیادہ تر خبروں کو کِل کرنا ہے۔‘ ایک اور کا کہنا تھا کہ ’براہ راست سکیورٹی اداروں کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے ہم سرکاری اہلکار یا پولیٹکل انتظامیہ پر تمام ملبہ ڈال دیتے ہیں۔‘

ضرب عضب کے بعد کے دو سال میں جو حل زیادہ شدت کے ساتھ اپنایا گیا ہے وہ ہے ’سیلف سینسر شپ‘ یعنی خود خبریں سینسر کرنا۔

حکومتی دباؤ کے تحت شدت پسندوں کے بیانات کا مکمل بائیکاٹ بھی کیا گیا ہے لیکن اس حکمت عملی کے صحافیوں کے لیے سنگین مضمرات رہے اور اس کے نتیجے میں حکومت نواز سمجھے جانے والے میڈیا کو ہدف بھی بنایا گیا۔

خیال ہے کہ قبائلی صحافی زمان محسود کا نومبر 2015 میں قتل ٹانک میں اسی وجہ سے ہوا۔ ایک طالبان کمانڈر قاری سیف اللہ کے بقول وہ صحافت میں ’غیر جانبدار‘ نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر صحافیوں کے لیے بھی ان کا یہی پیغام ہے۔

آج کے پاکستانی صحافی کے لیے غیر جانبدار ہونا مشکل ہوگیا ہے۔ اس پر ’سہولت کار‘ یا ’غیر محب وطن‘ جیسے سنگین الزامات لگ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ HRCP
Image caption قبائلی صحافی زمان محسود کو نومبر 2015 میں ٹانک میں قتل کیا گیا تھا

یہ صورتحال قومی ایکشن پلان کے آنے کے بعد سے زیادہ گھمبیر ہوگئی ہے۔ میڈیا کو سرکاری طور پر ایک آلہ بنا دیا گیا ہے۔ اس پلان کے 20 نکات میں ہم سب جانتے ہیں کہ ایک نکتہ میڈیا پر بھی ہے۔ نئی صورتحال میں ’دوسرے فریق‘ کی رائے چاہے تحریری، ہو یا صوتی کسی خبر کا حصہ نہیں بن سکتی۔

بات اتنی آگے چلی گئی ہے کہ میڈیا کو باقاعدہ ’ہدایت‘ دی جانے لگی ہے۔

سابق گورنر پنجاب کے قاتل ممتاز قادری کے جنازے کی خبر میڈیا سے جیسے مکمل طور پر غائب ہوئی اس کی شاید مثال نہیں ملتی۔

ایک قومی اخبار کے مدیر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس خبر کو مکمل طور پر کِل کرنے سے ایک بری مثال قائم کی ہے۔ اب حکومت یا ریاستی ادارے ہر قسم کی فرمائش کر سکتے ہیں۔‘

آج بھی وزیرستان میں میڈیا کا مکمل بلیک آؤٹ ہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ وہاں واپس لوٹنے والے قبائل کن مشکلات سے دوچار ہیں۔

حکومت یا فوج میڈیا پر ’سہولت کار‘ ہونے کے الزام لگانے کی بجائے خود اگر میڈیا کی ’سہولت کار‘ بن جائے تو اس سے صحافت کا معیار بھی بہتر ہوگا اور عام لوگوں کی زندگیاں بھی بچائی جا سکیں گی۔

اسی بارے میں