بجٹ سازی اجلاس اور ’ہم ایک پیج پر ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرکاری اعلامیہ کے مطابق اس اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے صوبے کے سماجی اور انتظامی شعبوں کی ترقی کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے لیے بجٹ بنانے کے سلسلے میں منعقد ہونے والے کم از کم ایک اجلاس میں سویلین حکام کے ساتھ صوبے میں تعینات اہم فوجی افسران نے بھی شرکت کی ہے۔

خیال رہے کہ صوبے میں امن وامان کے ناقص حالات اور اس کے ردِعمل کے طور پر مختلف کالعدم تنظیموں کے خلاف جاری آپریشن کی وجہ سے بلوچستان کے سکیورٹی اور انتظامی معاملات میں سکیورٹی اداروں کا عمل دخل اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ سابقِ دورِ حکومت کی کچھ اہم شخصیات نے الزام عائد کیا تھا کہ سکیورٹی اداروں نے بلوچستان میں متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے۔

تاہم سنہ 2013 میں ہونے والے انتخابات کے بعد سے سویلین حکام کے موقف میں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔

قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ یہ کہتے رہے کہ بلوچستان کے معاملات میں سویلین حکومت اور سکیورٹی ادارے ایک پیج پر ہیں۔

بلوچستان کی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواب ثنا اللہ زہری کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اعلیٰ فوجی حکام بجٹ سازی کے سلسلے میں ہونے والے اجلاسوں شریک رہے ہیں۔

گذشتہ دنوں جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق ایک ایسے اجلاس میں سویلین حکام کے علاوہ جن اعلیٰ فوجی حکام نے شرکت کی ان میں فوج کی تینتیسویں اوراکتالیسویں ویں ڈویژنز کے جنرل آفیسر کمانڈنگز کے علاوہ انسپیکٹر جنرل فرنٹیئر کور شامل تھے ۔

سرکاری اعلامیہ کے مطابق اس اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے صوبے کے سماجی اور انتظامی شعبوں کی ترقی کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

بلوچستان کے سینیئر صحافی شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ ماضی میں جمہوری حکومتوں کے ادوار میں بجٹ سازی کے اجلاسوں میں فوجی حکام نے کبھی شرکت نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا عمل دخل ہمیشہ رہا ہے لیکن اس سے پہلے کسی سویلین حکومت کے دور میں بجٹ سازی کے اجلاسوں میں فوجی حکام کی شرکت کی مثال نہیں ملتی ۔

اس حوالے سے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بجٹ کے سلسلے میں جو بھی ہمیں تجاویز دے اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔

’بجٹ بنانا حکو مت کا کام ہے۔ فوج امن و امان برقرار رکھنے میں سویلین حکومت کی بھرپور مدد کر رہی ہے اور تاریخی حوالے سے بلوچستان میں جو ملٹری اور سویلین عدم توازن رہا ہے وہ آ ج ختم ہو گیا ہے۔ ہم سب اب ایک پیج پر ہیں۔‘

بجٹ سے متعلق اجلاس میں فوجی حکام کی براہ راست شرکت کے علاوہ سویلین حکومت اور فوج نے اس سلسلے میں ایک مشترکہ سیمنار بھی منعقد کروایا تھا۔

اسی بارے میں